ہزارہ

کراچی 20سال پیچھے چلا گیا ہے۔ وائس چیئرپرسن روبینہ یاسمین

مئیر کراچی اور انکی ٹیم نے بدعنوانیوں، ٹھیکوں میں گھپلوں، جعلی بھرتیوں اور جعلسازیوں کے سوا کراچی کو کچھ نہیں دیا۔ کرپشن ٹریڈ مارک حکومت سندھ نے 38کرپٹ SDAکے اہلکار ایس بی سی اے تعینات کرکے کراچی میں زمینوں کو قبضہ مافیا اور ادارے سے مہاجر افسران کو فارغ کرکے سندھی افسران تعینات کردیئے۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) مہاجر اتحاد نیشنل موومنٹ کی وائس چیئرپرسن روبینہ یاسمین نے کہا ہے کہ کراچی 20سال پیچھے چلا گیا ہے۔ مئیر کراچی اور انکی ٹیم نے بدعنوانیوں، ٹھیکوں میں گھپلوں، جعلی بھرتیوں اور جعلسازیوں کے سوا کراچی کو کچھ نہیں دیا۔ کرپشن ٹریڈ مارک حکومت سندھ نے 38کرپٹ SDAکے اہلکار ایس بی سی اے تعینات کرکے کراچی میں زمینوں کو قبضہ مافیا اور ادارے سے مہاجر افسران کو فارغ کرکے سندھی افسران تعینات کردیئے۔ اورنگی ٹاؤن میں لوگوں کو بے گھر کرنے کے لئے ہزاروں لیزیں ماروائے قانون منسوخ کرنے کا مطلب مہاجروں کو بے گھر کرنا ہے۔ دہری شہریت اور ایک کروڑ رشوت دے کر دو اہم عہدے حاصل کرنے والا افسر لگا کر تباہی اور مہاجر کش آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ وہ لیبر ونگ، شعبہ خواتین اور کے ایم سی کے وفد سے گفتگو کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے علی حسن زرداری، علی حسن بروہی،لینڈ مافیا ایجنٹ آج بھی زمینوں پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کرا رہے ہیں۔ کچی آبادیوں کو اب نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے منظور کا کا سمیت تمام پی پی پی کے ڈی جی اور وزراء پہلے اجازت دیتے رہے۔ مہاجروں پر زمین تنگ کرنے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔ انہیں تفصیلی معلومات فراہم کی گئی۔ تو انہوں نے کہا کہ اجرک والی نمبر پلیٹ کی اسکیم مہاجر کش آپریشن کا آغاز ہے۔ جس طرح اردو کا جنازہ ہے زرا شان سے نکلے پر حالات خراب کئے گئے اجرک نمبر پلیٹ فسادات کا بھڑکاوا ہے۔ فوری منسوخ کیا جائے۔ دو لسانی صوبہ پر اپنا انتہا پسندانہ رویہ ترک کیا جائے۔ کے ایم سی برباد ہو چکی ہے۔ مئیر کی ٹیم منتھلی وصول کر رہی ہے۔ افضل زیدی نامی کرپٹ افسر نے بیٹرز رکھے ہوئے ہیں۔ اس انکشاف پر کہ فیصل رضوی نامی بدنام زمانہ دہشت گرد اور مفرور افسر جو لیب اٹینڈنٹ تھا ریکارڈ میں ہیر پھیر کے بعد صوبائی وزیر کے ساتھ اسٹیٹ ایجنسی کی پارٹنر شپ کی بنیاد پر کے ایم سی کا ڈان بنکر رقوم وصولی کے علاوہ زمینوں کو بیچ بیچ کر اصل مالکان کو غنڈوں سے گھر خالی کرا رہا ہے۔ روبینہ یاسمین نے گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے کہا ہے کہ وہ اصل کام کریں۔ مہاجر کہتے ہیں تو مہاجروں کے لئے کام بھی کریں۔ چاچڑ، محسن شیخ، مئیر کے کارندوں، کرم اللہ وقاصی، اسلم سموں اور 2021سے ابتک تقرریوں کا ریکارڈ چیک کریں۔ پنشنرز کو پنشن اور واجبات ادا کئے جائیں۔ دو سال میں ریکوری کا ریکارڈ مئیر عوام کے سامنے پیش کریں۔ فیصل رضوی، نیب زدہ افسران، سزا یافتہ افسران، ایف آئی آر میں مطلوب افسران کو عہدوں سے ہٹایا جائے۔ عوام جنکو لیز منسوخی کی دھمکیاں مل رہی ہیں رابطہ کریں۔ علی خورشیدی سے ملیں اور انہیں انکی ذمہ داری کا احساس دلائیں۔ بوگس آکشن، بوگس ترقیاتی کاموں کی رقوم کی ادائیگی۔ عدالتوں کو گھر کی لونڈی سمجھنے والے مئیر کو چیئرمین بلاول بھٹو، صدر آصف زرداری فوری برطرف کریں۔ جماعت اسلامی بھی پریس کانفرنس کی سیاست کر رہی ہے نوٹس لے۔ کراچی کے اسٹیک ہولڈرز متعصبانہ عمل رکوائیں۔ فیلڈ مارشل، کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز سندھ کا نوٹس لینے اور کاروائی کا وقت آگیا کیونکہ مئیر اور اسکے لے پالک کراچی میں امن و امان خراب کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ مرتضی وہاب کراچی اور مہاجر دشمن ہے۔ تمام منتخب نمائندوں اور افسران کے اثاثہ جات چیک کئے جائیں۔ کچی آبادی کے عوام لاوارث نہیں پورے سندھ میں اگر ایکشن نہیں ہوتا تو پھر کراچی میں مہاجر اپنا حق لینا جانتے ہیں۔
عقیل ابنالوی
سیکریٹری اطلاعات

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button