آج کے کالمزکالمز

*حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریفؒ، علم و روحانیت اور عشقِ مصطفیٰ کے درخشاں چراغ*

(تحریر: احسن انصاری)

 

برصغیر پاک و ہند کی سرزمین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں ہر دور میں ایسی باکمال اور بامرتبت ہستیاں پیدا ہوئیں جنہوں نے دینِ اسلام کی سربلندی، روحانی تربیت، اور عشقِ مصطفی ﷺ کے فروغ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ ان میں سے ایک درخشندہ نام حضرت پیر مہر علی شاہؒ کا ہے جن کا تعلق گولڑہ شریف سے تھا۔ آپ ایک بلند پایہ عالمِ دین، مفسرِ قرآن، فقیہ، شاعر اور عظیم صوفی بزرگ تھے جنہوں نے اپنے علم و عمل، کردار، زہد اور عشقِ رسول ﷺ سے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو منور کیا۔

حضرت پیر مہر علی شاہؒ کی ولادت یکم اپریل 1859ء کو گولڑہ شریف (ضلع راولپنڈی) میں ہوئی۔ آپ کے والد گرامی حضرت نذر دین شاہؒ ایک پرہیزگار، متقی اور دین دار شخصیت تھے۔ آپ کا شجرہ نسب حضرت امام علی نقیؑ تک پہنچتا ہے، اسی لیے آپ کو سید کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ آپ کے گھرانے میں دینی ماحول غالب تھا، چنانچہ بچپن سے ہی آپ میں روحانیت، علم اور تقویٰ کی جھلک دیکھی جانے لگی۔

ابتدائی تعلیم آپ نے گولڑہ شریف اور قریبی قصبہ میں حاصل کی۔ قرآن کریم کو نہ صرف یاد کیا بلکہ اس کے مفاہیم اور مطالب پر بھی غور و فکر کرنے لگے۔ تعلیم کے شوق نے آپ کو دور دراز کے شہروں کا رخ کرنے پر آمادہ کیا۔ آپ نے لاہور، میرٹھ، علی گڑھ، دیوبند، اور لکھنؤ جیسے علمی مراکز میں جا کر بڑے بڑے علمائے کرام سے استفادہ کیا۔ آپ نے فقہ، تفسیر، حدیث، فلسفہ، منطق، تصوف اور عربی و فارسی زبان و ادب میں مہارت حاصل کی۔

روحانیت کی جانب آپ کی رغبت قدرتی تھی۔ آپ نے سلسلہ چشتیہ میں بیعت و خلافت حضرت شمس الدین دینپوریؒ سے حاصل کی۔ بعد ازاں آپ کو قادریہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ سلاسل میں بھی خلافت عطا ہوئی۔ گولڑہ شریف کو آپ نے روحانی مرکز بنا دیا جہاں روزانہ سینکڑوں افراد روحانی تسکین اور اصلاحِ نفس کے لیے حاضر ہوتے۔ آپ کی مجالس نہایت پراثر، علم سے بھرپور، اور تربیت سے لبریز ہوتیں۔

آپ کی زندگی کا ایک نہایت اہم اور تاریخی باب قادیانیت کے خلاف علمی جہاد ہے۔ انیسویں صدی کے آخر میں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور مسلمانوں کے عقائد میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی، تو حضرت پیر مہر علی شاہؒ نے اس کا بھرپور علمی رد کیا۔ آپ نے 1899ء میں عربی زبان میں ایک عظیم کتاب "سیفِ چشتیائی” تصنیف کی، جو قادیانی عقائد کی تردید میں لکھی گئی ایک شاہکار ہے۔ اس میں قرآن، حدیث، اور اجماعِ امت کی روشنی میں ختمِ نبوت کے ناقابلِ تردید دلائل پیش کیے گئے۔ یہ کتاب آج بھی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے مناظرے کی دعوت دی، جسے پیر مہر علی شاہؒ نے قبول کیا۔ باقاعدہ تیاری کے ساتھ آپ لاہور پہنچے، لیکن مرزا غلام احمد وہاں آنے سے گریزاں رہا۔ اس طرح علمی میدان میں بھی قادیانی فتنے کی شکست ہوئی اور پیر صاحب کی علمی و روحانی عظمت کا لوہا دنیا نے مانا۔

حضرت پیر مہر علی شاہؒ کا دل عشقِ مصطفی ﷺ سے لبریز تھا۔ آپ کی گفتگو، تحریر، اور شاعری میں سرورِ کائنات ﷺ سے بے پناہ محبت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ اکثر نعتیہ اشعار میں اپنے جذبات کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ایک مشہور نعتیہ شعر جو آج بھی زبانِ خاص و عام پر ہے،

"آج سکِ متراں دی ودھیری اے
کیوں دلڑی اداس گھنیری اے
لوں لوں وِچ چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں”

یہ اشعار اس روحانی کیفیت کی نمائندگی کرتا ہے جس میں پیر صاحبؒ نے اپنے قلب و نظر کو جلوۂ مصطفی ﷺ سے روشن پایا۔ ایک اور مشہور شعر جس میں عشقِ رسول ﷺ کی شدت اور بے ادبی کے خلاف غیرتِ ایمانی کی جھلک ہے:

"کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں
سبحان اللّٰہ سبحان اللّٰہ”

یہ اشعار صرف ادب و عقیدت کے اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک روحانی پیغام ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کی توہین یا گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔

حضرت پیر مہر علی شاہؒ نے کئی علمی و روحانی کتب تصنیف کیں۔ ان میں "تحقیق الحق فی کلمۃ الحق”، "شمش الہدیٰ” اور مفصل "تفسیر سورۃ الفاتحہ” شامل ہیں۔ ان کتب میں سادگی، فصاحت، گہرائی اور حکمت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر سورۃ الفاتحہ کی تفسیر میں آپ نے قرآنی معارف کو تصوف اور روحانی نکات کے ساتھ اس خوبصورتی سے پیش کیا ہے کہ قاری کے دل پر اثر ہوتا ہے۔ آپ کی شخصیت کا ایک اور پہلو آپ کی سادگی، عاجزی اور محبتِ خلق تھی۔ گولڑہ شریف میں آپ کا دروازہ ہمیشہ سب کے لیے کھلا رہتا۔ مسافر، غریب، بیمار، اور طالبِ علم سب آپ کی خدمت و شفقت سے فیض یاب ہوتے۔ آپ نے اپنی ساری زندگی دین، عشقِ رسول ﷺ، اور انسانیت کی خدمت میں گزار دی۔

حضرت پیر مہر علی شاہؒ 11 مئی 1937ء کو وصال فرما گئے۔ آپ کا مزار گولڑہ شریف میں واقع ہے، جو آج بھی روحانی فیضان کا مرکز ہے۔ ہر سال آپ کا عرس بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے، جس میں دنیا بھر سے عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔ مزار کے احاطے میں ایک عظیم الشان مسجد، کتب خانہ، اور درسگاہ بھی موجود ہے۔

آپ کے وصال کے بعد آپ کے خاندان نے آپ کے مشن کو جاری رکھا۔ آپ کے فرزند پیر غلام معین الدین گیلانیؒ، پوتے پیر شاہ عبدالحق گیلانیؒ، اور موجودہ سجادہ نشین پیر شاہ عبداللطیف گیلانی آپ کی روحانی وراثت کے امین ہیں۔ انہوں نے دین کی خدمت، علم کی ترویج، اور روحانیت کی روشنی کو جاری رکھا ہے۔

حضرت پیر مہر علی شاہؒ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ دین صرف علم یا عبادت کا نام نہیں بلکہ کردار، اخلاص، عشقِ رسول ﷺ، اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج ہے۔ آپ نے نہ صرف اسلام کا علمی دفاع کیا بلکہ اپنے عمل، اخلاق، اور روحانیت سے لوگوں کے دلوں کو فتح کیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی گولڑہ شریف کے مزار پر عقیدت مندوں کی حاضری کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button