ہزارہ

پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان میں قربتین بڑھ گئیں

بیک ڈور ڈپلومیسی سے ایم کیو ایم پی پی پی خفیہ اتحاد سامنے آگی

کراچی  پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان میں قربتین بڑھ گئیں۔ بیک ڈور ڈپلومیسی سے ایم کیو ایم پی پی پی خفیہ اتحاد سامنے آگیا۔ ابتدا بلدیہ کراچی سے کی گئی۔ پی پی پی کی کراچی کی قیادت کی شکایات پر ہٹائے گئے۔ ایم کیو ایم افسران کی دبنگ واپسی ہوگئی۔ 34میں سے 30افسران ایم کیو ایم کی آفیسرز ایسوسی ایشن اور حلف بردار ور یا رہنماؤں کے رشتہ دار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق عبدالجبار بھٹی (ڈاکٹر فاروق ستار)کوفنانس اینڈ اکاؤنٹس میں، نازش رضا(سابق رہنما کی بہن) انجینئرنگ میں، ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما شہزاد مرزا کے بھائی (احسن مرزا) انسپکشن اینڈ انکوائریز، عبدالقیوم خان (مرکزی الیکشن سیل) ای اینڈ آئی پی)، نادر خان (عامر خان)کے رشتہ دار کو اسپینسرآئی اسپتال، عاشق الیاس (رہنما ایم کیو ایم)چارجڈ پارکنگ، آغا جلال الدین (سی ای سی شاہ فیصل M&HS KMC، اقبال نواز (سینئر رہنما)SRS Hospital M&HS، KMC، ندیم زیدی CEC Landhi M%HS KMC،اعجاز احمد شاہ (CEC Landhi M%HS KMC)، زاہد حسین خواجہ (لیپروسی اسپتال کے ایم سی)جنید اللہ خان (MPH, MPL Services KMC)، رضا عباس رضوی (بھائی حیدر عباس رضوی) انکوائریز کئے بغیر من پسند محکمہ کلچر اینڈ اسپورٹس میں تعینات، محمد سہیل خان کو انفارمیشن ٹیکنالوجی)، نایاب سعید (CEC Shah faisal KMC)، سید وسیم حیدر باقری (C&S KMC)، صباح الاسلام (میونسپل سروسز)، عزرا مقیم (محکمہ قانون)، عمران احمد (فنانس کے ایم سی)، کنور ایوب (چارجڈ پارکنگ)، آصف اقبال (ای اینڈ آئی پی)، آفاق درانی (لینڈ کے ایم سی)، اختر عادل (انفارمیشن ٹیکنالوجی)، راشد علی (زوو ری کریشن)عمران صدیقی (ویٹرینری سروس)، اسماء حنیف (لیپروسی اسپتال)، صائمہ جاوید (لیپروسی اسپتال)، ڈاکٹر عمران صمدانی (عباسی شہید اسپتال)، محمد ندیم (سٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایم سی)، محمد وسیم (ویٹرنری)، محمد جنید (لیپروسی اسپتال)، محمد طارق خان (لینڈ لیزکے ایم سی)، سید عنایت اللہ خان (لینڈ لیز کے ایم سی، محسن علی شیخ (کونسل سیکریٹریٹ کے ایم سی) شامل ہیں۔ ایک افسر 20گریڈ، 19گریڈکے 18افسران، 18گریڈ کے 9افسران، 17گریڈکے 6افسران شا مل ہیں۔ متعدد افسران معطل تھے جنہیں بغیر انکوائری کے بحال کردیا گیا۔ جبکہ کئی افسران سیریز انکوائریز میں تھے۔ کچھ ریٹائرمنٹ پر پہنچ جانے والوں کو بھی نظر اندازکردیا گیا۔ تعینات کئے گئے افسران اسوقت پوسٹ محکمہ جاتی سربراہان کو رپورٹ کریں گے۔ مئیر کراچی نے تمام تعیناتی کے منتظر افسران کو بحال کردیا ہے لیکن کئی افسران ذاتی پرخاش پر اب بھی زیر عتاب ہیں۔ لیکن انہیں مئیر کراچی سے توقع ہے کہ اگلے مرحلے میں انہیں بھی بحال کردیا جائے گا۔ میونسپل کمشنر افضل زیدی نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کے ایم سی کے ترجمان نے کہا کہ مئیر کراچی نرم دل ہیں اور وہ عوام اور افسران دونوں میں،مقبول ہیں۔ ایم کیو ایم کی آفیسرز ایسوسی ایشن نے بھی مثبت ردعمل دیا۔ جبکہ کئی سینئر افسران نے اسے اپنی تضحیک قرار دیا۔ کہاکہ سیاسی بنیادوں پر ایک افسر کی ہائی پروفائل انکوائری دبا دی گئی۔ جبکہ ذاتی پرخاش پر اب بھی بہت سے افسر نشانہ ہیں۔ ایم کیو ایم کے ایک رہنما نے غیر رسمی گفتگو میں کہاکہ ہمارے افسر گھر بیٹھے تھے مرتضی وہاب نے اچھا کام کیا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button