قومی

کراچی کے سرکاری ادارے Monolpyاور عوامی مفادات کے برخلاف چلائے جا رہے ہیں۔

قانونی کاروائی کے لئے بھی مرکزی کمیٹی کو سفارشات پیش کریں گے۔ عزیر شاہ و اراکین کراچی کمیٹی

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) MPPکی مرکزی کمیٹی کے رکن عزیر شاہ اور دیگر اراکین کراچی کمیٹی نے کہا ہے کہ کراچی کے سرکاری ادارے Monolpyاور عوامی مفادات کے برخلاف چلائے جا رہے ہیں۔ کے ایم سی میں تعیناتی کے منتظر ملازمین کو تعیناتی دینے کے بجائے ان سے گاڑیاں، پٹرول اور قانونی طور پر کونسل سے منظور کردہ قراردادوں کے برخلاف زیرو کیا جا رہا ہے۔ان سے کے ایم سی اور دیگر اداروں کے افسران اور تعیناتی سے محروم افسران کے وفود نے ملاقت کی جس میں بتایا گیا کہ کے ایم سی میں SCUGافسران کی بھرمار کی وجہ سے کونسل افسران غیر قانونی نافذ کردہ Schedule of Establishment کا شکار ہو رہے ہیں جس کے تحت کونسل کی قانونی نشستیں بھی ایس سی یو جی کو دے دی گئی ہیں جبکہ شیڈول آف اسٹبلشمنٹ منظور کرنا کونسل کی ذمہ داری ہے۔ بلدیہ کراچی میں اقرباء پروری اور بائسٹ سوچ کے ساتھ مقامی افسران کو تعیناتی دینے کے بجائے مخصوص افراد کو تعیناتی دی جا رہی ہیں۔ تعیناتی کے منتظر افسران سے سہولتوں کی واپسی کی مذمت کرتے ہیں اورغیر قانونی DPCکے علاوہ مسلسل انتقامی سوچ کے ساتھ افسران کو زچ کرنے کے ثبوت اور تفصیلات ہمیں موصول ہوچکی ہیں۔ میری پہچان پاکستان کا فکر و فلسفہ یہی ہے کہ پاکستان کو بدلنا ہے ایسے افراد جو ذاتیات اور ریاست کے بجائے سیاست اور مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ ملک کے لئے نا موزوں افراد ہیں۔ میرٹ ہر صورت میں بلا تخصیص رنگ و نسل وزباں و سیاست میں عمل درآمد کرانے کا مشن ہمارے ویژن کا حصہ ہے۔ قومی سوچ کے بجائے لسانی اور بائسٹ سوچ کے خلاف ہماری جدوجہد جاری ہے اور اسکے لئے ہم قانونی جنگ بھی لڑیں گے۔ اسی طرح ٹی ایم سیز اور یو سیز، کے ڈبلیو ایس سی، کے ڈی اے، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے میں بھی اسی طرح کے عمل جاری ہیں جسکی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ ہم بالخصوص کے ایم سی کے میئر کو یہ باور کریں گے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں۔ تعیناتی کے منتظر افسران و ملازمین کو فوری تعیناتی دی جائے ان سے کسی صورت سہولتیں نہ لی جائیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد قومی رہنما اور سندھ کے طویل ترین گورنر اور ستارہ امتیاز کی حامل لیڈر شپ ہیں۔ ہم حقداروں کا حق مارنے نہیں دیں گے۔ افسران کے ساتھ کھڑے ہیں اور انکے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونے دینگے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button