سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افکٹیز(ایس پی ایچ ایف)COP29 میں ایک عالمی مثال کے طورپر ابھرا ، سید مراد علی شاہ

کراچی17نومبر۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےباکو میں منعقدہ cop 29 میں اپنے کلیدی خطاب میں سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افکٹیز (ایس پی ایچ ایف) پروگرام کی قابل ذکر کامیابیوں کو اجاگر کیا اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لئے ایک عالمی ماڈل کے طور پر پیش کیا۔154 ممالک کی آبادی سے بڑے ایک انسانی ہاؤسنگ پروگرام نے آج COP29 میں عالمی توجہ حاصل کی،پاکستان پویلین میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ کے حوالے سے گلوبل ریزیلینس COP29 میں منعقدہ ایک تاریخی خطاب میں سیدمراد علی شاہ نے کہا کہ ایس پی ایچ ایف نے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لئے اپنے انقلابی نقطۂ نظریہ کو پیش کیا۔پاکستان پویلین میں "سیلاب متاثرین کے لئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ: عالمی لچک کے لئے ایک خاکہ” کے عنوان سے ایک تاریخی پینل مباحثے میں بین الاقوامی ترقیاتی رہنماؤں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کس طرح حکومت سندھ کے اس اقدام نے آفات کے بعد بحالی اور کمیونٹی کی تعمیر نو کے پیرامیٹرز کو نئے سرے سے بیان کیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ منصوبہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کا حصہ ہے جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ افراد کوموسمی حالات کے چیلنجز کے مطابق رہائشی سہولت فراہم کرنا ہے ۔مراد علی شاہ نے COP29 میں کئی اہم اہداف پر ر روشنی ڈالی: اس وقت 2.1 ملین گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں اور اس پروجیکٹ کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لئے 10 لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں جس سے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو 8 لاکھ 10 ہزار روپے کی امداد کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔صرف سندھ میں ہی آب و ہوا سے نمٹنے کے لیے تین لاکھ گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ اگلے مرحلے میں پانی اور حفظان صحت (ڈبلیو اے ایس ایچ) کی سہولیات کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی،اس وقت 60,000 آبادیوں پر کام جاری ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ ایک گاؤں کا نام ان کے نام پر رکھا گیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے عالمی برادری کی غیر متزلزل حمایت پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔COP29 میں ایک اعلیٰ سطحی پینل مباحثہ کا اہتمام کیا گیا جس میں خالد محمود شیخ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ایس پی ایچ ایف، محترمہ ژیاؤ ہونگ یانگ، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، وسطی اور مغربی ایشیا محکمہ، ایشیائی ترقیاتی بینک، ڈاکٹر عیسیٰ فائی، ڈائریکٹر جنرل، گلوبل پریکٹسز اینڈ پارٹنرشپ، اسلامی ترقیاتی بینک، ڈاکٹر ویلری ہکی، گلوبل ڈائریکٹر برائے ماحولیات، عالمی بینک شامل تھے۔ مباحثے میں اس منصوبے پر عملدرآمد میں شفافیت اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے آگاہ کیا گیا جس پر مباحثے کے شرکائ نے پروجیکٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی شاندار منصوبہ ہے اور قابل تعریف ہے ۔ ٹیکنالوجی ، کمیونٹی کی شمولیت اور پائیدار طریقوں کو مربوط کرکے ، ایس پی ایچ ایف نے آفت زدہ علاقوں کی بحالی کی کوششوں کے لئے ایک عالمی معیار قائم کیا ہے۔


