قومی

بلدیہ کراچی کا محکمہ لینڈ کرپشن کاگڑھ بن گیا۔ نجی ملازم نے پرائیوٹ بیٹرز کی بھرمار کردی۔ سب رجسٹرار کو گھروں پر بلا کر عدالتی احکامات کے خلاف لیزیں اور میوٹیشن جاری

مزاحمت کرنے والے افسر کو ہٹا کر بدنام زمانہ اینٹی کرپشن اور نیب کو مطلوب اشعر اور جلیس سمیع کی سمری ماہانہ 5لاکھ بیٹر سے لینے والے آفاق مرزا نے دستخط کرکے بھیج دی

کراچی ( ڈسٹرکٹ رپورٹر) بلدیہ کراچی کا محکمہ لینڈ کرپشن کاگڑھ بن گیا۔ نجی ملازم نے پرائیوٹ بیٹرز کی بھرمار کردی۔ سب رجسٹرار کو گھروں پر بلا کر عدالتی احکامات کے خلاف لیزیں اور میوٹیشن جاری کردی ہیں۔ جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر، لینڈ سرویئر نے اعتراض کیا تو انہیں ۃتانے کی امتیاز بٹ نامی پرائیوٹ بیٹر نے آفاق مرزا سے سمری بھجوا دی۔ مزاحمت کرنے والے افسر کو ہٹا کر بدنام زمانہ اینٹی کرپشن اور نیب کو مطلوب اشعر اور جلیس سمیع کی سمری ماہانہ 5لاکھ بیٹر سے لینے والے آفاق مرزا نے دستخط کرکے بھیج دی

سینئر ڈائریکٹر HRMلینڈ رولز کے ماسٹر ہیں۔ انہوں نے لینڈ رولز سے واقفیت نہ رکھنے والوں کو اورنگی لینڈ میں تعینات سے انکار کردیا۔ میئر اور میونسپل کمشنر کو حقائق لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نجی فرد امتیاز بٹ نے اورنگی کے پی ڈی کو جنہیں 50لاکھ روپے سسٹم کو دے کر لایا گیا۔ وصولی مہم شروع کردی ہے۔ MUCTکا بل اور چالان بھرائے بغیر براہ راست پی ڈی اورنگی سے دستخط لے کر Transfer/ Mutation/ Amalgamation/Sale Deed ودیگر دستاویزات جاری کی جا رہی ہیں۔ سسٹم کے نام سے افسران سے میئر کے نام سے 5لاکھ، میونسپل کمشنر کے نام سے 3لاکھ، لاء ڈپارٹمنٹ کو ایک لاکھ، پی ڈی اورنگی کو دو لاکھ اور خود دو لاکھ فکس کردیئے گئے ہیں۔ تمام کاموں کے ریٹس دگنے کردیئے گئے ہیں۔ لیز کے لئے آنے والے عمران نے کہا کہ مجھے امتیاز بٹ سے ملنے کا کہا گیا۔ 120گز کی لیز کے چالان سمیت دو لاکھ مانگے جا رہے ہیں۔ میوٹیشن کے پلاٹ کے سائز کے حساب سے رقم لی جا رہی ہے جس میں لینڈ سرویئر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر کے دستخط نہیں لئے جا رہے جسکی وجہ عوام کو کم ریٹس میں موٹیشن دینے کا عزر پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ فلاحی زمینیں نمٹانے کے لئے کچھ لیزیں کرالی گئی ہیں باقی کرائی جا رہی ہیں۔ مسمار کئے گئے پلاٹ والوں سے فی کس 3سے5لاکھ لے کر دوبارہ تعمیر کی اجازت دے دی گئی ہے جس میں SBCAکا بھی حصہ ہے۔ میئر کے سارے دعوی غلط ثابت ہوگئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button