
کراچی (اسٹاف رپورٹر) KHA بزنس انٹرنیشنل ریلیشنزاور کفیل گروپ کے سی ای او، روٹری کلب آف کراچی انوائرمنٹ کے پریذیڈینٹ ،
چیئرمین ڈپلومیٹک افیئرز کیپ اور معروف آرکیٹیکٹ کفیل حسین نے شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن(ایس سی او) کانفرنس میں شرکت پر شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شریک معزز مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا اور چین اور پاکستان کے درمیان پائیدار دوستی کی تعریف کی ایس سی او کانفرنس میں رکن ممالک کی نمائندگی چین، روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے وزرائے اعظم کے ساتھ ساتھ ایران کے نائب صدر اور ہندوستان کے وزیر خارجہ بھی کریں گے اس موقع پر کفیل حسین نے کہا کہ چینی وزیر اعظم کا 11 سال بعد پاکستان کا پہلا دورہ خوش آئند ہے چین کے وزیر اعظم لی کیانگ اپنے قیام کے دوران وزیراعظم پاکستان سے ملاقات میں سی پیک، اقتصادی تعاون اور دوطرفہ تجارت سمیت علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے جس سے پاکستان میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو سکے گا انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے سربراہان کو پاکستان کی سرزمین پر خوش آمدید کہتا ہوں یہ اجلاس اقتصادی، سیاسی اور عسکری شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرے گا جس سے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے کفیل حسین نے کہا کہ کانفرنس میں معیشت، تجارت، سماجی وثقافتی تعلقات، ماحولیات کے شعبوں میں تعاون پر بات ہوگی جبکہ تعاون کے فروغ سے متعلق اہم فیصلے اور تنظیم کے بجٹ کی منظوری بھی دی جائے گی جس سے پاکستان کے ساتھ دیگر ممالک کی معیشت کی ترقی کرے گی اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ دیکھنے میں آئے گا انہوں نے کہا کہ 1997 کے بعد ہونے والی اتنی بڑی کانفرنس سے پاکستانی حکومت اور تاجر برادری کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ موجودہ حکومت معیشت کی بحالی اور اسے مستحکم بنانے کے لئے گراں قدر خدمات پیش کر رہی ہے کفیل حسین نے کہا کہ پاکستان میں قیام امن سے ہی ترقی اور خوشحالی جڑی ہوئی ہے تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ملکی مفاد میں کام کریں تا کہ پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو سکے انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایس سی او کانفرنس کے شاندار میزبانی تمام ممالک کے وزرائے اعظم اور دیگر ارکان کو پسند آئے گی کفیل حسین نے کہا کہ کانفرنس میں لی کیانگ نے پاکستان کی اہمیت کو ترقی پذیر ملک اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے طور پر اہمیت کو اجاگر کیا ہے جبکہ چین پاکستان دوستی کو دوطرفہ تعلقات کےلئے مثال ہیں قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان گہرے تبادلوں کی امید ظاہر کی ہے جو باہمی تعاون اور اعتماد کی 73 سالہ تاریخ کی عکاسی کرتا ہے.



