ہماری اشرفیہ اور غریب طبقہ
ایسے وقت میں جب پاکستان کے پہلے سے غریب طبقے پر بوجھ ڈالا جارہا ہے، ان حالات میں یہ لازم ہے کہ ان اداروں پر سوال اٹھایا جائے جن کو مفت آسائشیں دی جارہی ہیں کہ انھیں یہ آسائشیں مفت کیوں ملیں؟‘پاکستان میں ایک جانب جہاں بجلی کے بلوں پر احتجاج کے بعد نگران وزیر اعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے وہیں دوسری جانب سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ پاکستان میں کون سے طبقات یا اداروں کو مفت یا کم نرخوں پر بجلی سمیت مراعات فراہم کی جاتی ہے۔واضح رہے کہ بجلی کے نرخ میں متواتر اضافے، فیول ایڈجسٹمنٹ سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر رواں ماہ توقع سے زیادہ بجلی کے بل ملنے کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہوئے جس کے بعد سنیچر کے دن نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انھوں نے ’بجلی کے بھاری بِلوں کے معاملے پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں وزارت بجلی اور تقسیم کار کمپنیوں سے بریفنگ لی جائے گی اور صارفین کو بجلی کے بِلوں کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔‘مگر رکیے جناب یہاں تو مزید بجلی مہنگی کی جارہی ہے اور وزیراعظم صاحب نے بول دیا ہم IMF کے پابند ہے ہمارا ملک میں راج ہے تو IMF کا یا تو ڈالر کا فیصلے انھوں نے کرنے ہیں اور تم کیوں بیٹھے ہو الیکشن والا ڈونگ کیوں رچاتے ہو کیوں عوام کی آنکھوں میں دول جھونکتے ہو کیوں بے سہارہ عوام کو سہارے کی آس دلااتے ہو جب بات آتی ہے تو عوام ہی قربانی کیوں دے اشرفیہ کیوں نہیں دے رہی اپنی مراعات کم کیوں نہیں کر رہی ہمارے سابقہ وزیراعظم صاحب سے لندن میں پاکستان کے بارے میں سوال کیا گیا تو موصوف کہتے ہیں وہ پاکستان کا مسلہ ہے میں ابھی لندن میں ہو اس کا مطلب عوام جاگے ان لوگوں کا اصلی گھر کاروبار بیرون ممالک میں ہے یہ لوگ یہاں نوکریاں کرنے آتے ہیں ان کو اولاد سب باہر ہے سابقہ جٹسیس ہو یا وزیراعظم سب کے سب اعلی عہدیدار آپ کو یورپ ممالک میں ملے گے یہاں آتے ہیں مگر پاگل عوام ان کو سیلکٹ کرتی ہے اور پھر خمیازہ بھگتی ہے ان کی عیاشیوں کا ہر دور کا حکمران پہلے سے زیادہ ظالم نکلا پہلے ہم برطانیہ کے غلام اب ڈالر اور imf کے ہمارا ملک آزاد ہے لیکن آزادی کہا ایک تصویر میں بزرگ بچے اپنا سامان سفر اٹھائے چلتے چلتے پوچھ رہے تھے 75 سالوں سے ہمارا سفر چل رہا ہے لیکن پاکستان نہیں آیا ہمارا ہم مقابلے کی بات کرتے ہیں مگر بات کرکٹ میچ تک محدود رہتی ہے ہم نے دشمن کے بچے اتنے پڑھا دیے کہ وہ چاند پر پہنچ گئے مگر ہم گانا رلیز کرکے دل کو تسلی دے دیتے ہیں انڈیا میں جو گاڑی کی قمیت 2 لاکھ ہے وہ گاڑی پاکستان میں 40 لاکھ سے زاہد کی ہے اور تو اور چائینہ کا موٹر سائکل 1 لاکھ دس ہزار کا ہو گیا جو لوگ بیچارے ڈگریاں لے کر بائکیا چلاتے ہیں اب ان کے لیے بائک لینا بھی مشکل سے مشکل ہو گیا غریب کی بچیوں کی عمریں گزرتی جارہی ہے مگر شادی کے لیے پیسے نہیں ہر روز بڑھتی مہنگائی نے ہر سفید پوش سے دو وقت کی روٹی چھین لی مگر حکمران ہے کہ جن میں کوئی احساس نام کی چیز ہی نہیں



