آج کے کالمز

☆ بلا عنوان ☆

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بنت حوا

اسلام ایک مہذب دین ہے اسلیئے اس نےگالی کو سنگین جرم اورگناہ کبیرہ قرار دیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں تو ایک غیر مسلم کو گالی دینا جائز نہیں.افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کو بطور ہتھیاراور آخری حربہ استعمال کیا جاتا ہےجو تعلیمات دین اسلام اور تعلیمات محمدی ﷺ کی سراسر منافی ہے۔
،سوشل میڈیا ہو،پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا اس پر چار دن سے سب سے زیادہ جو موضوع گفتگو بنے وہ ہیں کانسٹیبل شاہد جو ایک یو ٹیوبر بھائی کو سرے عام گالی گلوچ کر رہے ،انھوں نے آئی جی پنجاب کو بھی نہیں بخشا بلکہ جس جس کا نام لیا گیا، انھوں نے آزادی کے ساتھ اس کو بھی گالیاں دیں، اس کے بعد جس وڈیو نے زیادہ توجہ حاصل کی وہ تھا آئی جی پنجاب کا اس بندے سے ملنے جانا اور اس کو بائے پولر ڈس آڈر کا مریض بتانا،اس پر بہت تنقید ہوئی تو بہت لوگوں نے اس عمل کی حوصلہ افزائی بھی کی ،ہمارے بہت سینئر صحافی نے یو ٹیوبر بھائی کی غلطی بولی کہ اسکو کیا پڑا تھا کہ وہ پولیس والے سے سوال کرتا ،اس کے بعد آئی جی صاحب کو یاد آیا کہ عام آدمی تو کیڑے مکوڑے جن کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی پولیس آفیسر سے لائسنس یا ہیلمٹ کا پوچھیں، صرف سروس کارڈ طلب کر سکتے ،تو یہاں بہت سے سوالات اٹھتے ہیں
پہلے تو شاہد کو دیکھا جائے اس نے بہت سے قانون توڑے
1۔بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکل
2۔ان کے یونیفارم پر نیم ٹیگ نہیں تھا
3۔نشہ میں تھے
4۔ سر عام گالم گلوچ اور تشدد کیا
یہاں ہیلمٹ اور لائسنس دونوں کا سوال نہیں اٹھاتے، لیکن باقی چار جو قانون توڑے گئے اس کا جواب کون دے گا، اگر مان بھی لیا جائے کہ بندہ ذہنی مریض تھا تو وہ ان ڈیوٹی کیسے تھا؟ وہ یونیفارم میں کیوں تھا؟ اسکا علاج پہلے شروع کیوں نہیں کیا گیا؟ وڈیو وائرل ہونے کے بعد ذہنی مریض بولا گیا اسکا سرٹیفکیٹ کیوں نہیں دکھایا گیا؟ اور ایسا بندہ جو کسی بندے کی چھوٹی سی بات پر ہائپر ہو رہا اسکا ایک ایسے ادارے میں جسکا کام ہی جان و مال کا تحفظ ہے اس میں کیا کر رہا ،اس ادارے میں ملازمت کے لئے چار ٹیسٹ میں پاس ہونا ضروری ہوتا
1۔جسمانی(physical test)
2۔ لکھائی(written )
3۔بصری(visual )
4۔نفسیاتی اور ذہنی (mental health +psychological )
اور پھر انٹرویو ہوتا اور میڈیکل ٹیسٹ ہوتا اسکے بعد کسی کو رکھا جاتا ہے
ایسا شخص جو تشدد پسند ہو اسکو کیسے رکھا گیا،چلیں مان لیتے دوران سروس اسکو چوٹ آئی تو وہ مریض بنا لیکن اسکا علاج پہلے شروع کیوں نہیں کیا گیا؟؟؟ اور کچھ وقت کے لئے اسکو ملازمت سے آرام کا مشورہ کیوں نہیں دیا گیا؟ اسکے بعد جو رویہ تھا وہ ٹریفک وارڈن کا تھا جو وہاں موجود تھا اس سب کو تماشا سمجھ کر دیکھتا رہا اور اپنی ذمہ داری پوری کیوں نہیں کی؟ محکمانہ کاروائی اس پر بھی بنتی ہے، اس نے قانون توڑنے والوں کو کیوں نہیں روکا اور بیچ سڑک تماشا لگانے پر کاروائی کیوں نہیں کی؟؟؟ اور بات آتی ہے آئی جی پنجاب کے رویہ کی ،با ظاہر انھوں نے ” جپھی ” ڈالی اور جارحانہ رویہ کا دفاع کیا اور ذہنی مریض بولا جس کی تردید شاہد کی امی نے کی اور بولا کہ وہ گھر بالکل درست ہےاور کوئی مرض میں مبتلا نہیں ہے، یہاں جنھوں نے وڈیو دیکھی انھوں نے غور نہیں کیا کہ جب کھلے عام معافی اور سپورٹ مل رہی ہو تو انسان کے چہرے پر بارہ نہیں بجتے، ظاہری طور پر جو مدد آئی جی پنجاب نے کی کیا اس سے ایسے واقعات میں اضافہ نہیں ہوگا کہ جس سے مرضی بد تمیزی کرو،ماں بہن ایک کرو، گالیاں دو ،قانون توڑ دو پھر ذہنی مریض بن جاو
اسکے بعد جیسا کہ ہمارے سینئر صحافی نے بولا کہ یو ٹیوبر کا حق ہی نہیں تھا کہ وہ سوال کرتا۔ وہاں ایک بات بولوں گی کہ وہ ٹیوبر بعد میں پہلے پاکستانی تھا جس نے ایک غلط چیز کو دکھانے کی کوشش کی، ہاں اس کی غلطی یہ کہ بے حسوں کے ملک میں بولا،جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون نافذ، اسکی دوسری غلطی ہے کہ اس نے بغیر سینسر کے وڈیو جاری کردی،اس کو کوئی حق نہیں تھا کہ اس ملک میں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اپنے بندے قانون پر عمل نہیں کرتے اس جگہ قانون کی بات کی، اور مشہور ہونے کے چکر میں اپنے ساتھ وڈیو بنانے والے کی پٹائی بھی کروا دی،
اس سب میں سخت ایکشن بنتا تھا، کانسٹیبل شاہد، ٹریفک وارڈن اور یو ٹیوبر تینوں کے خلاف، پہلے ملک میں لاقانونیت عروج پر ہے ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی تو رہا سہا نام کا قانون بھی ختم ہو جائے گا
سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button