
یومِ تکبیر وہ دن ہے جب پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک خوددار قوم ہے جو اپنی آزادی، سلامتی اور وقار کی حفاظت کرنا خوب جانتی ہے۔ چاغی کے پہاڑوں میں گونجنے والے وہ ایٹمی دھماکے صرف بارود کی گرج نہیں تھے، بلکہ ایک عہد ایک قربانی اور ایک غیر متزلزل ارادے کی بازگشت اور قومی خود مختاری کا دبنگ اعلان تھا۔ اس اعلان کی باز گشت ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی اور تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف میں ہی لکھی جاتی رہے گی۔ یہ دن صرف سائنسی برتری کا مظہر نہیں بلکہ قومی شعور، اتحاد اور عزم کا جشن ہے۔
یہ سفر اُس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب ایک مدبر رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے دشمن کی ایٹمی قوت کے مقابلے میں پاکستان کو دفاعی برابری دلوانے کا خواب دیکھا۔ اُن کے وہ تاریخی الفاظ "ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے” محض نعرہ نہیں بلکہ ایک پوری قوم کے عزم، غیرت اور استقامت کا آئینہ تھے۔ اُنہوں نے منزل کا رخ دکھایا اور پھر قوم کے سرفروش سائنسدانوں نے اس خواب کو حقیقت کا جامہ پہنایا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ذکر کیے بغیر یہ داستان مکمل نہیں ہو سکتی۔ وہ صرف ایک سائنسدان نہیں بلکہ قومی جذبے اور اخلاص کی جیتی جاگتی مثال تھے۔ وسائل محدود تھے مگر حوصلے آسمان سے بلند۔ اُنہوں نے ثابت کر دیا کہ جب قوم کی نیت سچی ہو اور ارادہ فولادی تو دنیا کی کوئی طاقت خوابوں کو حقیقت میں ڈھلنے سے روک نہیں سکتی۔
پھر آیا وہ نازک ترین لمحہ جب ایٹمی قوت بننے کا فیصلہ درکار تھا۔ عالمی طاقتیں دباؤ ڈال رہی تھیں، اربوں ڈالر کی پیشکشیں ہو رہی تھیں اور دھمکیوں کا طوفان برپا تھا۔ ایسے میں وزیراعظم نواز شریف نے وہ جرأتمندانہ فیصلہ کیا جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا۔ اُنہوں نے وقتی فائدے، عالمی خوشنودی اور سفارتی مصلحتوں کو مسترد کرتے ہوئے قومی غیرت، سلامتی اور خودمختاری کو ترجیح دی۔
بل کلنٹن جیسے عالمی رہنما کی کالز، یورپی یونین کے مشورے اور اقتصادی پابندیوں کا خدشہ سب کچھ داؤ پر لگا تھا۔ مگر نواز شریف نے وہی راستہ چنا جو ایک بہادر قوم کے قائد کو زیب دیتا ہے۔ اُنہوں نے نہ صرف سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا بلکہ عسکری اور سائنسی اداروں کو یکجا کر کے ایک ایسے فیصلے کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بنا دیا۔
یومِ تکبیر کے بعد عالمی پابندیاں لگیں، معیشت پر بوجھ آیا، لیکن قوم کا سر بلند رہا۔ کیونکہ یہ صرف بارود کا نہیں وقار کا معاملہ تھا۔ نواز شریف کا یہ فیصلہ اُن کی سیاسی بلوغت، قائدانہ حکمت اور قومی مفاد کے لیے قربانی کا اعلیٰ نمونہ بن گیا۔ اُنہوں نے ثابت کیا کہ ایک سویلین جمہوری وزیراعظم اگر قومی مفاد کو مقدم رکھے تو عالمی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر تاریخ رقم کر سکتا ہے۔
یومِ تکبیر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کوئی قوم اپنے ہیروز کے بغیر نہیں ابھرتی۔ بھٹو کی دُور اندیشی،ڈاکٹر قدیر کی محنت، اور نواز شریف کی جرأت، ان تین ستونوں نے وہ عمارت کھڑی کی جس پر آج پاکستان کی سلامتی استوار ہے۔ مگر ان سب سے بڑھ کر وہ کروڑوں پاکستانی عوام تھے جن کی دعائیں، قربانیاں اور جذبے اس کامیابی کے پس پردہ تھے۔
یہ دن صرف ماضی کا فخر نہیں مستقبل کا روشن چراغ بھی ہے جو یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عزت مانگنے سے نہیں عمل سے ملتی ہے۔ طاقت امن کی ضمانت ہے مگر صرف تب جب وہ غیرت کے حصار میں ہو۔
یومِ تکبیر کی گونج صرف چاغی کی سنگلاخ چٹانوں میں محفوظ نہیں بلکہ ہر محب وطن کے دل میں زندہ ہے۔ یہ دن ہمیں کہتا ہے کہ خواب دیکھو مگر زندہ قوموں کی طرح، جہاں ڈر اور خوف نام کی کسی چیز کا وجود نہ ہو کیونکہ جو قومیں خودداری سے جیتی ہیں، وہ کبھی تاریخ میں ہارتی نہیں ہیں بلکہ ہمیشہ ایک لا زوال تاریخ رقم کرتی ہیں۔
پاکستان ان شاءاللہ ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔



