قومی

ہولی ویک کے احترام میں بڑا قدم: سندھ حکومت نے امتحانات مؤخر کر دیے

2 تا 6 اپریل 2026 تک تمام تعلیمی بورڈز کو پرچے نہ لینے کی ہدایت، نئے شیڈول کے مطابق امتحانات 7 اپریل سے دوبارہ شروع ہوں گے

حکومت سندھ نے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے اور مسیحی برادری کے مذہبی جذبات کے احترام میں ایک اہم اور بروقت فیصلہ کرتے ہوئے ہولی ویک اور ایسٹر کے دوران امتحانات منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت 2 اپریل سے 6 اپریل 2026 تک صوبے بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کسی بھی قسم کا امتحان منعقد نہیں کریں گے۔

صوبائی وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر اٹھایا گیا ہے تاکہ مسیحی طلبہ، اساتذہ اور عملہ اپنے مذہبی تہوار سکون اور یکسوئی کے ساتھ منا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2 تا 6 اپریل کے دوران کوئی پرچہ نہیں لیا جائے گا جبکہ تمام ملتوی شدہ امتحانات 7 اپریل 2026 بروز منگل سے نئے شیڈول کے مطابق دوبارہ شروع ہوں گے۔

یہ فیصلہ سینٹ پیٹرک ہائی اسکول کراچی کے پرنسپل ریورنڈ فادر ماریو اے روڈریگز کی جانب سے دی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا، جس میں مسیحی برادری کے لیے ہولی ویک کی مذہبی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس درخواست کو مثبت انداز میں لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت دی اور امتحانات کی تاریخوں میں تبدیلی کا حکم جاری کیا۔

وزیر جامعات نے تمام تعلیمی بورڈز کو ہدایت کی ہے کہ اگر کسی بورڈ نے پہلے ہی امتحانات کا ٹائم ٹیبل جاری کر رکھا ہے تو وہ فوری طور پر ضروری ترامیم کر کے نیا شیڈول جاری کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ بورڈز کے چیئرمینز کو عملدرآمد کی تعمیلی رپورٹ محکمہ جامعات کو ارسال کرنے کا بھی کہا گیا ہے تاکہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کو باقاعدہ آگاہ کیا جا سکے۔

تعلیمی حلقوں اور اقلیتی نمائندوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف مسیحی طلبہ کو ذہنی سکون ملے گا بلکہ صوبے میں رواداری اور باہمی احترام کا پیغام بھی مضبوط ہوگا۔ ماہرین تعلیم کے مطابق امتحانات جیسے اہم مرحلے پر مذہبی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ایک ذمہ دارانہ اور حساس حکومتی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کسی ایک طبقے کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے میں ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔ صوبائی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آئندہ بھی تمام مذاہب اور برادریوں کے حقوق اور جذبات کا مکمل احترام کیا جائے گا۔ اس اقدام کو نہ صرف اقلیتی برادری بلکہ وسیع سماجی حلقوں کی جانب سے بھی مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو ایک پرامن اور باہمی احترام پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button