نبی پاک کا پیغام اللہ پاک کی شریعت ہے، حضرت مولانا مفتی عدنان کاکا خیل
ادارہ دینی تعلیمات البرہان اکیڈیمی کے بانی حضرت مولانا مفتی عدنان کاکا خیل نے کہا کہ نبی پاک کا پیغام اللہ پاک کی شریعت ہے۔جنھوں نے نبیوں کی پیروی نہیں کی ان کا نام و نشان صف ہستی سے مٹ گیا۔مسلانوں کی ناموس نبی پاک کی تعلیمات سے جڑی ہے۔رسالت کا ماننا ہم سب پر واجب ہے۔ دور حاضر میں نوجوانوں کو سیرت طیبہ سے روشناس کروانا ہوگا۔سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہونے سے زندگی کا ہر مسئلہ حل ہوگا۔یہی حقیقی زندگی کا راز ہے۔زندگی کے ہر شعبہ میں آپ کو رہنمائی ملے گی۔جمعرات کو کپس کالج سکستھ روڈ کے زیر انتظام ربیع الاول کی مناسبت سے "نقوش سیرت کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا۔جس کے انعقاد کا مقصد سرکار دو عالم آخر الزمان نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر روشنی ڈالنا تھا۔تقریب کے مہمان خصوصی ادارہ دینی تعلیمات البرہان اکیڈیمی کے بانی حضرت مولانا مفتی عدنان کاکا خیل تھے۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول سے کیا گیا۔تقریب میں طلبا،اساتذہ اور دینی حلقوں سے وابستہ شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔البرہان ایف ٹین کے طلبا نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارکہ پر مشتمل ماڈلز پیش کیے ،جن کی کاوشوں کو بیحد سراہا گیا۔اس موقع پر مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی عدنان کاکا خیل کی جانب سے اپیسما شمالی پنجاب کے صدر و ممبر ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی راولپنڈی ابرار احمد خان کو بہترین تعلیمی کارکردگی پر اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا۔دینی مجلس کے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے پرنسپل محمد ذیشان نے کہا کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ میں اور میرے فرشتے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پاک پر بھیجتے ہیں۔یاد رکھیں کہ جب آپ کا ذکر کسی بھی نسبت سے آجائے تو درود پاک پڑھنا فرض ہو جاتا ہے۔ مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی عدنان کاکا خیل نے کہا کہ اللہ پاک نے انسان بنائے۔پھر انبیا کرام بھیجنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟آج کی جدید دنیا نے مادی ترقی کی، لیکن دینی اقدار کو بھلا بیٹھی۔ اگر ہم نبیوں کی ضرورت کو محسوس نہیں کریں گے تو پھر آپ کے معاشرے میں فسادات پنپنا شروع ہو جائیں گے۔ جس کا سب سے زیادہ سامنا مغربی دنیا کو ہے۔دنیاوی ترقی اپنی جگہ ہے لیکن دین سے دوری معاشرے کو اخلاقی پستی کا شکار کرتی ہے۔اس کی بنیادی وجہ ایک ہی ہے کہ ہم نے انبیا کرام کی تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی ایک بڑی تقسیم یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو یہ بات مانتے ہیں کہ نبوت معاشرے کے لیے اسی قدر ضروری ہے جس طرح سانس لینے کے لیے ہمیں آکسجین کی ضروت ہے، اسی طرح نبیوں کی پیروی کے بنا معاشرتی برائیوں سے نجات نہیں مل سکتی۔ایک دوسرے کے حقوق اور فرائض کا لحاظ اسے وقت تک ممکن ہے جب تک ہم حیات طیبہ پر عمل کریں گے۔آج پوری دنیا محرومیوں کی دہائی دے رہی ہے۔فسادات کی بڑی وجہ محرومی ہے۔نبوت کی ضرورت کیوں ہے؟ اللہ پاک براہ راست اپنے بندے سے رابطہ نہیں کرتا لیکن اپنی بات کو نبیوں کے ذریعے ہم تک پہنچاتا ہے۔نیبوں کا پیغام اللہ پاک کی شریعت ہے۔جنھوں نے نبیوں کی پیروی نہیں کی ان کا نام و نشان صف ہستی سے مٹ گیا۔جب نبی پاک کو نبوت بخشی گئی تو ان کے ساتھیوں نے شریعت کی پاسداری کی جس کی مثال نہیں ملتی ۔صحابہ کرام سابقہ امتوں کی گمراہی سے واقف تھے۔دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں وہ اپنے پیرو کاروں کو محدود حد تک آگہی دے پائے لیکن اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ۔پوری دنیا اسلام سے خائف ہے کیوں کہ ہماری اسلامی تعلیمات زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کرتی ہیں۔نبی پاک کی مثال پوری انسانیت میں نہیں ملتی۔لیکن جو لوگ مسلمان ہونے کے باوجود نبی پاک کی تعلیمات پر عمل کرنے سے قاصر رہے وہ مشکلات کا شکار رہے۔وہی لوگ کامیاب ہیں جنھوں نے نبی پاک کی تعلیمات کی پیروی کی۔مفتی عدنان کاکا خیل کا کہنا تھا کہ ڈیڈھ ارب سے زائد مسلمان نبی پاک کو اپنا آخری نبی مانتے ہیں ۔اس کے باجود ہم سں مسلم ممالک غزہ کے بیس لاکھ لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ۔ جب کہ عرب دنیا وسائل سے مالا مال ہے۔ اگر دنیا بھر کے مسلمان ایک پیج پر جمع ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت میلی آنکھ سے نہیں دیکھ پائے گی۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مال دار ہوں گے تو مسائل حل ہو جائیں گے ۔اگر یہ بات درست ہے تو سب سے زیادہ پیسہ مغربی دنیا کے پاس ہے لیکن پھر بھی وہ انتشار کا شکار کیوں ہے۔مسلانوں کی ناموس نبی پاک کی تعلیمات سے جڑی ہے۔رسالت کا ماننا ہم سب پر واجب ہے۔لیکن کوتاہی ہونا یا ماننے سے انکار کرنے میں فرق ہے۔نبی پاک کی تئیس سالہ نبوت کے دور میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جو نبی پاک کا روشن باب ہے۔ان تیس سالوں میں پوری دنیا تبدیل ہوئی۔جس کی نشانیاں دور حاضر میں بھی موجود ہیں۔اسلام عملی دین ہے۔چودہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی آج امت محمدی آن شان سے کھڑی ہے۔زندگی کی رہنمائی سیرت طیبہ سے حاصل کریں۔تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے طلبا کو سیرت طیبہ سے روشناس کروائیں۔لیکن سیرت طیبہ اسی کو فائدہ دے گی جو دلچسپی اور دلجمعی سے اس کی جستجو کرے گا۔ زندگی کا ہر فیصلہ سیرت نبوی پڑھنے کے بعد کریں ،یقین مانیں آپ کو کبھی اپنے فیصلے پر پچھتاوا نہیں ہوگا ۔ان کا کہنا تھا کہ دور حاضر میں نوجوانوں کو سیرت طیبہ بارے جاننا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ مثبت خطوط پر اپنی زندگی استوار کر سکیں۔سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہونے سے زندگی کا ہر مسئلہ حل ہوگا۔یہی حقیقی زندگی کا راز ہے۔زندگی کے ہر شعبہ میں آپ کو رہنمائی ملے گی۔سیرت نبی کو عام کریں۔اسلامی تعلیمات سے ہمارے نوجوان دوسروں کے لیے مشعل راہ بنیں گے۔تقریب کے اختتام پر دعا کی گئی۔


