ہزارہ

مری: یو این اور آئی او ایم کے تعاون سے ہیومن ٹریفکنگ اور مائیگرنٹس اسمگلنگ کے فرق پر تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد

مری:صحافیوں کو ہیومن ٹریفکنگ اور مائیگرنٹس اسمگلنگ کے درمیان بنیادی فرق سمجھانے کے لیے اقوامِ متحدہ (یو این) کے تعاون سے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کی جانب سے مری میں تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

ورکشاپ میں ٹرینر اور سینئر صحافی عون ساہی نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مائیگرنٹس اسمگلنگ کا مطلب کسی شخص کو غیر قانونی طریقے سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخل کروانا ہے تاکہ وہ وہاں رہائش اختیار کر سکے، جبکہ ہیومن ٹریفکنگ (Human Trafficking) سے مراد انسانوں کی خرید و فروخت یا انہیں دھوکے، زبردستی یا لالچ کے ذریعے جبری مشقت، جسم فروشی یا کسی غیر انسانی مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مائیگرنٹس اسمگلنگ اور ہیومن ٹریفکنگ دو الگ الگ جرم ہیں، اور دونوں کی نوعیت اور سزائیں مختلف ہیں۔
سینئر صحافی عون ساہی کے مطابق عالمی سطح پر مائیگرنٹس اسمگلنگ دو سو ارب ڈالر سالانہ کا کاروبار ہے، جس میں بڑی بین الاقوامی مافیاز ملوث ہیں۔

ورکشاپ میں شریک صحافیوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایف آئی اے سمیت دیگر متعلقہ ادارے اس حوالے سے مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے۔
شرکاء کے مطابق عالمی قوانین کے تحت ہیومن ٹریفکنگ پولیس کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، لیکن پاکستان میں تحقیقاتی اداروں کے درمیان اس بارے میں ابہام اور غیر واضح تقسیم موجود ہے۔
صحافیوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے میں قائم “ہیومن ٹریفکنگ سیل” اس ابہام کی نمایاں علامت ہے۔

ورکشاپ میں یو این اور آئی او ایم کے نمائندوں نے زور دیا کہ ریاست کو غیر قانونی راستوں سے لوگوں کی بیرونِ ملک منتقلی (ڈنکی کلچر) کے خاتمے کے لیے مزید سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔
سینئر صحافی عون ساہی نے بتایا کہ اب پڑھے لکھے نوجوان بھی یورپ یا امریکہ جانے کی خواہش میں ایجنٹوں کے جال میں پھنس رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں جعلی آئی ٹی نوکریوں کا لالچ دے کر پاکستانی شہریوں سے غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام کروائے جا رہے ہیں۔

ورکشاپ کے شرکاء نے نشاندہی کی کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں ڈنکی کے ذریعے بیرون ملک بھیجنے کا منظم نیٹ ورک آج بھی سرگرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونان اور لیبیا میں پیش آنے والے ہولناک کشتی حادثات کے باوجود یہ غیر قانونی کاروبار ختم نہیں ہوا، بلکہ ایجنٹوں نے اپنے ریٹ میں اضافہ کر دیا ہے۔
ورکشاپ میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس خطرناک رجحان کو روکنے کے لیے ریاست، اداروں اور میڈیا کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button