آج کے کالمزکالمز

فلسطین کے مظلوم مسلمان اور ہماری ذمہ داریاں

فلسطین کے حالات کی وجہ سے ہر انصاف پسند اورصا ف دل اور زندہ ضمیر رکھنے والا شخص رنجیدہ ہے۔ ایک مومن تو اپنے دل میں درد، جگر میں سوز اور کلیجے میں جلن محسوس کرتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ اسلام نے جس درد ومحبت کے رشتے میں ہمیں پرودیا ہے، اس کی رو سے مشرق میں کھڑے شخص کے پاؤں میں اگر کانٹا بھی چبھے تو مغرب میں کھڑے شخص کو اپنے دل میں اس کی چبھن محسوس کرنی چاہیے۔ ایک کی مصیبت پر دوسرے کو تڑپ جاناچاہیے اور ایک کی چوٹ کی کسک دوسرے کو اپنے سینے میں محسوس ہونی چاہیے۔ اس کیفیت میں شدت اس وقت آجاتی ہے جب وہ خودآگے بڑھ کرمظلوم کی مدد اور ظالم کا ہاتھ روکنا چاہ رہے ہوں، مگر بے بس ہوں اور جن کی اصل ذمہ داری ہو، وہ اس کا احساس نہ رکھتے ہوں، ایسے موقع پر ان کی حالت وہ ہوجاتی ہے جو امام سبکی علیہ الرحمہ پر گزری تھی اور اس حالت میں ان کے قلم سے یہ درد میں ڈوبے ہوئے الفاظ نکلے تھے کہ: ’’ہائے! ہاتھوں کا کام فریاد کرنا نہیں، بلکہ گریبان پکڑنا ہے، مگر افسوس کہ یہ ہاتھ ان تک پہنچ نہیں سکتے ہیں۔‘‘ جن کے ہاتھ ان تک پہنچ سکتے ہیں، جنہیں عالمِ اسلام اور ستاون اسلامی ملکوں سے یاد کیا جاتا ہے، اُن کی زبانیں گنگ، ہاتھ شل، اعضاء مفلوج اورضمیر مردہ ہوچکے ہیں، چنانچہ عملی تعاون اور مدد تو کجا، کہیں سے ان مظلوموں کی حمایت میں کوئی طاقت ور اور توانا آواز بھی نہیں اُٹھ رہی ہے۔ اگر کہیں کسی گوشے سے کوئی نحیف و نزار صداسنائی بھی دیتی ہے تو رسمی جملوں تک محدود ہوتی ہے، حالانکہ ان کو آوازوں اورقراردادوں کی ضرورت نہیں، بلکہ ٹینکوں کے مقابلے میں ٹینکوں کی اور میزائلوں کے مقابلے میں میزائلوں کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کی حمایتی ریاستوں نے صرف اس کے حق میں آواز بلند نہیں کی ہے، بلکہ بحری بیڑے اور عسکری سازو سامان بھیجا ہے۔
مسلمانوں کو اگر عالمِ اسلام سے امید ہے تو عالمِ اسلام کی نظریں خصوصاً پاکستان کی طرف ہیں اوراس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں اگر اسرائیل کا کوئی حقیقی حریف اور اصل مدِمقابل ہے تو وہ پاکستا ن ہے۔ دونوں کی بنیا د مذہبی ہے اور دونوں کی عمریں تقریباً برابر ہیں او ر دونوں ایٹمی قوتیں ہیں ۔
پاکستان پر کسی اور سے زیادہ یہ ذمہ داری اس وجہ سے بھی عائد ہوتی ہے کہ ہمارے آئین کا آرٹیکل:۴۰ عالمِ اسلام سے مضبوط رشتہ استوار کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ بانیِ پاکستان کے الفاظ ہیں کہ:
’’پاکستان دنیا کی مظلوم اورکچلی ہوئی اقوام کو اخلاقی اور مادی امداد دینے سے کبھی بھی نہیں ہچکچائے گا۔‘‘
اور اقوامِ متحدہ کے منشور میں درج شدہ اُصولوں کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے کئی اسلامی ملکوں کی آزادی کےلیے اَنتھک کوششیں کی ہیں اور ایشیا، افریقا، اور لاطینی امریکا کی مظلوم قوموں کا ساتھ دیا ہے۔
فلسطین کے ساتھ بانیانِ پاکستان کا رشتہ بطورِ خاص اسی طرح رہا ہے جیسے کشمیر کے ساتھ رہا ہے، انہوں نے کشمیر کی طرح فلسطین کے درد کو بھی اپنا درد سمجھا اور دونوں ہی تحریکوں میں بدل و جان حصہ لیا ہے، بلکہ ہمدردی کا یہ تعلق جانبین سے رہا ہے۔ فلسطین کے اکابر نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی حمایت کی اور کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی تائید کی، خصوصاً قیامِ پاکستان کے زمانے میں مفتی اعظم فلسطین کے عہدے پر فائز مفتی امین حسینی ؒنے ۱۹۵۱ء میں کشمیر کے حوالے سے کراچی میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی اور بذاتِ خود آزاد کشمیر جاکر کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ کی فلسطین کے بارے میں فکر مندی ان کے کلام اور خطبات سے واضح ہے اور بانیِ پاکستان کی موجودگی میں مسلم لیگ نے قرارداد پاس کی کہ عالمِ اسلام بیت المقدس کوغیر مسلموں سے آزاد کرنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرے۔
تاریخ شاہدہے کہ مسلمان جب آسمانی طاقت ساتھ لے کر چلے ہیں تو بڑی بڑی طاقتیں ان کے سامنے خاک کے گھروندے ثابت ہوئے ہیں۔ اسرائیل طاقت ور سہی مگر خدا سے زیادہ طاقتور نہیں اور اس کی طاقت یہی ہے کہ مٹھی بھر جماعت نے اس کی دھاک خاک میں ملادی ہے، وہ شدید رسوا اور ذلیل ہوا ہے، اس کی ہیبت زائل ہوچکی ہے، اس پر لرزہ طاری ہے اور وہ حواس باختہ ہوچکا ہے۔ چند دنوں کی جھڑپوں میں اس نے شدید جانی، مالی اورعسکری نقصان اُٹھایا ہے، اب وہ نہ سکونت کے اعتبار سے محفوظ رہاہے اورنہ ہی سرمایہ کاری کے لیے قابلِ اعتماد ٹھہرا ہے، اس کے ریڈاروں، کیمروں، سینسروں، مضبوط دیواروں، آہنی باڑوں اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود مجاہدین اسے ناکوں چنے چبوارہے ہیں
ان حالات میں چند اور امور کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ اہلِ علم کو چاہیے کہ عام مسلمانوں کو فلسطین کی تاریخی، مذہبی اور سیاسی اہمیت سے آگاہ کریں۔ فلسطین کا قضیہ حقیقت میں کیا ہے؟ اور مسلمانوں کواس بارےمیں حساس ہونے کی ضرورت کیوں ہے؟ اس بارے میں نوجوان نسل کو اصل حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے۔ یہود کے جرائم اورنفسیات کیا ہیں؟ اور قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت میں ان کو کیوں برائی کا منبع، اس کا مصدر اورموجد قراردیاگیا ہے ؟موجودہ دور میں اسرائیل، امریکا اور یورپ کا گٹھ جوڑکیوں ہے؟ جنگ اورجہاد میں کیا فرق ہے؟ اور حماس اپنی موجودہ روش میں کیوں حق پر ہے؟ ان حقائق سے نئی نسل کو روشناس کرانا چاہیے۔ جو لوگ میڈیا سے وابستہ ہیں یا کم از کم سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جھوٹی خبروں اور غیرمصدقہ اطلاعات کوآگے نہ بڑھائیں، بلکہ دشمن کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کریں۔ زمانہ جنگ میں دشمن کاوطیرہ رہا ہے کہ افواہوں کا بازار گرم کردیتا ہے؛ ا س لیے چوکنا اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے، منافقین نے تہمت کے لیے زمانۂ جنگ ہی کا انتخاب کیا تھا اور بعد کی تاریخ میں بھی زمانۂ جنگ میں ہی مسلمانوں کی طرف بے سروپا باتیں منسوب کی گئی ہیں۔ آخر میں اپنے مسلمان رہنماؤں سے کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا بھر کے مسلمان عوام میں ایمان وخلوص اور جوش وجذبہ پایا جاتا ہے، یہ جذبات ہماری طاقت ہیں اور برسرِ اقتدار طبقہ چاہے تو ان جذبات کو درست موقع پر درست انداز سے کام میں لاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ محیرالعقول کارنامے انجام دیے جاسکتے ہیں، جن سے دیگر قومیں محروم ہوچکی ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی وناصر ہو

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button