غزہ میں فوجی تعیناتی کا معاملہ: وزیرِاعظم شہباز شریف امریکی دورے میں وضاحت طلب کریں گے، ذرائع
ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم کا ممکنہ امریکی دورہ پاک۔امریکا تعلقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ میں فوجی تعیناتی سے متعلق ابہام دور کرنے پر مرکوز ہوگا

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم Shehbaz Sharif اپنے آئندہ متوقع امریکی دورے کے دوران غزہ میں ممکنہ فوجی تعیناتی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور سفارتی سطح پر پائے جانے والے ابہام پر وضاحت طلب کریں گے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور غزہ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں مختلف بین الاقوامی فورمز پر امن دستوں یا کثیرالقومی فورس کی تعیناتی سے متعلق تجاویز زیرِ بحث آئی ہیں، جن میں پاکستان کے ممکنہ کردار کے حوالے سے بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم اس معاملے پر امریکی قیادت سے براہِ راست بات چیت کر کے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کسی بھی اقدام کا حصہ صرف اسی صورت میں بن سکتا ہے جب وہ اقوامِ متحدہ کے واضح مینڈیٹ، بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کی مرضی کے مطابق ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پالیسی اصولی طور پر فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت پر مبنی ہے، اور کسی بھی فوجی یا امن مشن میں شمولیت کا فیصلہ قومی مفاد اور پارلیمانی مشاورت کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، معاشی تعاون، آئی ایم ایف پروگرام، علاقائی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی جیسے امور بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔ تاہم غزہ کی صورتحال خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی برادری انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور امدادی رسائی بڑھانے پر زور دے رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ماضی میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے، لیکن غزہ جیسے حساس اور تنازعہ زدہ علاقے میں کسی بھی فوجی موجودگی کے مضمرات نہایت پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ اس لیے وزیرِاعظم کی کوشش ہوگی کہ کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کو سفارتی سطح پر واضح کر کے پاکستان کے مؤقف کو دوٹوک انداز میں پیش کیا جائے۔
حکومتی ذرائع نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ پاکستان نے غزہ میں فوج بھیجنے کا کوئی فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور بعض بین الاقوامی رپورٹس میں سامنے آنے والی اطلاعات کی تصدیق ضروری ہے، اور اسی مقصد کے لیے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کیے جا رہے ہیں۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیرِاعظم اپنے دورے میں انسانی بنیادوں پر امداد، فوری جنگ بندی اور پائیدار سیاسی حل کی حمایت پر زور دیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ نہ صرف پاک۔امریکا تعلقات کے لیے اہم ہوگا بلکہ خطے میں پاکستان کے سفارتی کردار کے تعین میں بھی کلیدی حیثیت رکھ سکتا ہے۔
رپورٹ: عبدالمومن


