آج کے کالمز

*سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی* *اصل بنیاد اور افسانے*

 *تحریر : ڈاکٹر عبدالروف واہ کینٹ* ۔

قرآن مجید ، اللہ تعالی کی طرف سے جبریل امین کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر تدریجاً کم و بیش 23 سال میں عربی زبان میں نازل کردہ وہ کتاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد قیامت تک کے انسانوں کے لیے واحد اور آخری کتاب ہدایت ہے ۔ الہامی کتابیں چار اور صحائف متعدد ھیں ۔ لیکن قرآن مجید کا درجہ ان سب سے بلند تر ہے کیونکہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے محفوظ ، باقی تمام آسمانی کتابوں پر مھیمن اور نگہبان ، اور اس کی شریعت ناقابل تنسیخ اور تا قیامت رشد و ہدایت کا منبع ہے ۔

یہودیت نے اس کتاب ہدایت کے نزول پر روز اول ہی سے واویلا کیا ھے۔ جا پر قرآن شاہد ھے اور اس کتاب کو ماننے سے انکار کیا ھے۔ نہ صرف انکار بلکہ اس کے خلاف ہمیشہ بغض اور دشمنی کا اظہار کیا ہے ۔ اسی بغض میں جلد بھن کر وہ جبریل اور اللہ کو بھی اپنا دشمن قرار دے دیتے ہیں ۔

غیر مسلموں کے ہاتھوں قرآن مجید اور شعائر اسلام کی توہین اللہ اور رسول کی توہین اور انکار کرنا کوئی نئی بات نہیں ۔ بلکہ یہ حق و باطل کی اس کشمکش کا ایک لازمی حصہ ہے ۔ جو حضرت آدم اور شیطان ملعون کے درمیان روز اول سے پیدا کر دی گئی تھی ۔ دنیا کا کوئی مذہب دوسرے مزاہب کی کتابوں کو وہ عزت نہیں دیتا جو اسلام تورات ،اور انجیل کو دیتا ھے ۔ اسلام ان آسمانی کتابوں کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا اور ایسا کرنے والے شخص کو اسلام سے خارج سمجھتا ھے ۔

اس کے برعکس یہود نے ہر دور میں ہر مذھب کے لوگوں کے درمیان ایک طبقے کو جنم دیا ھے جو مذھب کا انکار کرتا ھے اور اس آڑ میں ہمیشہ خدا کا انکار ، اور مذھب کے شعائر کی توہین کرتا ھے ۔ اس سے لوگوں میں اس مذھب کے خلاف مختلف آراء اور شکوک پیدا کر کہ مذھب کی بندھنوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ جذبات کو ابھارا جاتا ھے ۔ انتھائی اقدام کی طرف بڑھا کر مذھب کے ماننے والوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تشدد پر اتریں گے ۔ اور پھر ان متشدد اقدامات کو بنیاد بنا کر مذھب پسند لوگوں کو مذھبی جنونی ، بنیاد پرست ، دھشت گرد ، اور ظالم ظاہر کیا جاتا ھے ۔ جس سے ایک طرف ہر مذھب میں لبرلز کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسری طرف مذھب کے ماننے والوں میں شکوک و شبہات اور بحث مباحثوں میں اضافہ ہوتا ھے ۔ جس سے دجالی راستہ نکالا جاتا ھے ۔

سویڈن میں حالیہ توہین قرآن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

سویڈن پہلے ہی سے سیاہ فام اور سفید فام نسلی فسادات کا شکار ہے ۔ سیاہ فام لوگوں کی اکثریت مسلمان ھے ، سفید فاموں کی اکثریت غیر مسلم ھے ۔ جبکہ حکومت مسلمان ہے۔ اور سویڈن کے مسلمان ہم پاکستانیوں سے کئی گنا بہتر اور پکے مسلمان ہیں ۔

سویڈن میں نسلی فسادات تاریخ کا حصہ ہیں اور تاحال بھی پائے جاتے ہیں ۔ سفید فاموں کے ظلم کی وجہ سے آئے روز بڑی تعداد مسلمان ہوتی ہے ۔ جو سفید فاموں کے لیے نا قابل برداشت ہے ۔ ایسے میں قانون کی عملداری کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔ اس پر مستزاد دنیا بھر میں آزادی رائے کی آڑ میں آزادئ توہین مذھب کا شیطانی ایجنڈا بھی کار فرما ہے ۔ آزادی رائے کا یہ مطلب لیا جاتا ھے کہ ہر شخص کو حق ہے کہ وہ جو چاہئے رائے رکھے لیکن یہ قانون بنانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جہاں ہر شخص کا حق ہے کہ اس کی رائے کا احترام کیا جائے تو وہاں ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی رائے خوش اسلوبی سے دوسرے کے سامنے رکھے اور دوسرے کی رائے اور مذھب کا بھی احترام کرے ۔ اور کسی کی دل آزاری نہ کرے ورنہ ایک کی آزادی رائے کا حق دوسرے لاکھوں انسانوں کی رائے اور مذھب کی توہین کا سبب ھو گا ۔جو دنیا میں فساد کا باعث بنے گا ۔ مذاہب کا معاملہ اور بھی نازک ہے ۔

حالیہ توہین قرآن میں اگرچہ سویڈن حکومت کا من حیث القوم یا ملک کچھ ذیادہ قصور نہیں۔ بلکہ اس میں اصل قصور عالمی سطح پر آذادئی رائے کے نام پر موجود بے مہار اور غلط قانون کا ہے ۔ جو آزادی رائے کی آڑ میں ان سب اقدامات کا راستہ ہموار کرتا ھے ۔

تحقیقات کے مطابق سویڈن کا توہین قرآن کا اصل واقعہ یہ ہے کہ جس شخص نے توہین قرآن کی، وہ شخص نہ مسلمان ہے نہ عیسائی ، نہ یہودی ۔ بلکہ ایک لبرل اور مذھب سے آزاد شخص ہے۔ جو سویڈن کا نہیں بلکہ عراقی شہری ہے ۔ اور سویڈن میں مقیم ہے ۔

یہ شخص کافی عرصہ سے سویڈن کے کچھ مقتدر حلقوں سے آزادی رائے کے قانون کے تحت قرآن مجید کو جلانے کی درخواستیں دے رہا تھا ۔ اور اسے مسلسل ناکامی ہو رہی تھی ۔ اور سویڈن میں نقص امن کے خطرے کے تحت اس شخص کو یہ انتھائی قدم اٹھانے کی اجازت نہیں مل رہی تھی ۔ بالآخر اس نے اس اجازت کو حاصل کرنے کے لیے سویڈن کی عدالت سے رجوع کیا ۔ عدالت کے جج چاہے کسی بھی ملک کے ہوں نہ چاہتے ہوئے بھی ملکی قانون کے پابند ہوتے ہیں ۔ لہذا اسے آزادیء رائے کے قانون کے تحت اجازت مل گئی۔ سویڈن حکومت نے اس قانون کے تحت اس شخص کو سیکورٹی بھی فراہم کی۔ ور سیکورٹی کے حصار میں اس شخص نے یہ ملعون فعل کیا ۔ اس اقدام کے بعد خود سویڈن میں بھی مظاہرے شروع ہو گئے ۔ اور اس شخص کو بھی حراست میں لے لیا گیا ۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سویڈن حکومت کا اس میں کچھ زیادہ قصور نہیں ۔ آزادی رائے کا یہ قانون عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے چارٹر پر اور تمام ممالک کے قوانین میں شامل ہے ۔

خود پاکستان میں اس قانون کی آڑ میں ماضی میں کیا کچھ نہیں ہوا ۔

تسلیمہ نسرین ، ڈاکٹر یوسف ، لاہور کی ثناء ، کا جھوٹا دعویٰ نبوت ، آسیہ کا توہین رسالت کرنا ، فیصل آباد کے قاسم نامی شخص کا دعویٰ امام مہدی اور سلمان رشدی کا قرآن مجید کے خلاف *شیطانی آیات* نامی ملعون کتاب لکھنا ، اور اس طرح کے بے شمار واقعات پاکستان کی سرزمین پر رونما ہوئے ۔ اور یہ سب ملعون ذندہ ہیں ۔ پاکستان کی کوئی بھی حکومت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی ۔ پاکستان اس آذادی رائے کے قانون کی وجہ سے انہیں کوئی خاطر خواہ سزا نہیں دے سکا ۔ تو کیا دیگر اسلامی ممالک نے توہین مذھب کے ان اقدام پر جو پاکستان کی سرزمین پر رونما ہوئے پاکستان کے خلاف کوئی احتجاج کیا ؟

اس کے سفارت خانوں کو بند کیا یا سفیر ملک بدر کیے ؟ کسی ملک نے پاکستان کے خلاف کوئی اقدام کیا ؟

نہیں ناں ۔۔۔ وجہ یہ ہے کہ ریاست نے یہ اقدامات نہیں کیے ۔ نہ انہیں سپورٹ کیا ۔ بلکہ ریاست کی محض زمین استعمال ہوئی ۔

اس طرح کے توہین مذھب کے واقعات کسی ایک ملک میں نہیں بلکہ دنیا کے تقریبا ہر ملک میں رونما ھوتے ہیں ۔ حتی کہ سعودی عرب میں بھی ایسے واقعات رونما ہوئے ۔ دور نہ جائیں تو ایک ڈیڑھ سال پہلے مسجد نبوی میں پی ٹی آئی اور نیازی کے حق میں نعرے اور چور چور کی واویلا، حرم اور میدان عرفات میں یوم عرفہ کے دن دوران حج پی ٹی آئی کے جھنڈا لہرانے اور پی ٹی آئی کے نعرے لگوانے اور شعائر اسلام کا تقدس پامال کرنے جیسے واقعات رونما ھوئے ۔ ان سب کو بھی آذادی رائے کے بے مہار قانون کی چھتری میسر آتی ہے ۔

یہی حال حالیہ واقعات میں سویڈن کی حکومت کا بھی ہے ۔ حالانکہ سویڈن کی حکومت مسلمان ہے ۔مگر اس عالمی بے ہودہ قانون کے ہاتھوں سب مجبور ھیں ۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس عالمی قانون میں اصلاح کے لیے احتجاج کریں ۔ مذاھب کی آزادی سب کو ہو لیکن توہین مذہب، انبیاء ، اور مذہبی کتب کی توہین پر ساری دنیا میں سزائے موت کا قانون ہو ۔

حالیہ توہین قرآن اور اس جیسے دیگر اقدامات کے خلاف احتجاج صرف پاکستان کو ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے ممالک کو ریکارڈ کروانا چاہئے وہ مسلم ہوں یا عیسائی یا یہودی یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ۔ اور سویڈن کے سفارت خانے کی بجائے اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے ہو جس میں سویڈن خود بھی شامل ہو۔

ہمیں پاکستان میں بھی اس قانون کی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ ورنہ ہماری سرزمین پر بھی ماضی کی طرح آئے روز مزید آسیہ ملعونہ ، یوسف رمزی ، گوہر شاہی ، ثناء ، اور سلمان رشدی جنم لیتے رہیں گے اور اس بے ہودہ قانون کی موجودگی میں ھم بھی سویڈن اور اپنے ماضی کی طرح ان ملعونین کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے ۔

ہاں جلسے جلوسوں میں ان کے نام پر سیاسی جماعتیں ، سیاس پوائنٹ سکورنگ کرتے رہیں گی ۔ اور اللہ کا دین مسلسل پامال ہوتا رہے گا ۔

جزاک اللہ خیرا کثیرا

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button