ریڈ لائن بی آر ٹی پر کسی بھی قسم کا حساب دینے کیلئے تیار ہیں، شرجیل انعام میمن

کراچی (نمائندہ نوائے ہزارہ )وزیراطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی پر کسی بھی قسم کا حساب دینے کیلئے تیار ہیں،کسی کی مجال نہیں پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے، میلی آنکھ رکھنے والے کو پاکستان جواب دے سکتا ہے، بانی پی ٹی آئی بہانہ، اصل نشانہ ایٹمی پروگرام ہے، بانی پی ٹی آئی استعمال ہورہاہے ،پیپلزپارٹی کی قیادت نے جانوں کے نذرانے دئیے، کبھی پاکستان کی سالمیت پرحملہ نہیں کیا، پیپلز پارٹی کے وفاقی حکومت کے ساتھ اختلافات ہیں، کینا لز پر ہمارا وفاق سے اختلاف ہے پی ایس ڈی پی میں اختلاف ہے، پیپلز پارٹی اگر اب چاہے تو حکومت کو ڈسٹرب کر سکتی ہے، لیکن ہم وفاقی حکومت کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتے۔ ان خیالات کاا ظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔شرجیل میمن نے کہا کہ سب سے پہلے تمام لوگوں کو نئے سال آمد کی مبارکباد دیتا ہوں، اس دعا کے ساتھ کہ نیا سال آپ سب کیلئے ترقی اور خوشحالی کا باعث بنے، جبکہ مظلوم فلسطینیوں سمیت سارے مظلوموں کیلئے نیا سال بہتر ہوگا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نئے سال کی خوشی ضرور منائیں لیکن ایسا کام نا کریں جو کسی کے لیے باعث تکلیف ہو، ہوائی فائرنگ سے اجتناب کریں اس سے جانی نقصان ہوتا ہے، خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے بھی اس حوالے سے سوشل میڈیا پر عوام کے لیے پیغام جاری کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی پر مختلف بیانات آرہے ہیں، حکومت کی جانب سے اس پر دن رات کام جاری ہے، ہماری جانب سے نہ کوئی رکاوٹ ہے نہ تاخیر ہے البتہ مسائل کا سامنا ہے جنہیں حل کررہے ہیں۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نگران حکومت میں ریڈ لائن کی ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی، نگراں دور میں نااہلی کی وجہ سے یہ منصوبا تاخیر کا شکار ہوا۔ وزیراطلاعات سندھ نے کہا کہ تاخیر کی وجہ ریڈ لائن میں ڈیزائن کے چیلنجز ہیں، کراچی میں ٹریفک کے مسائل کے باعث مٹیریل کی ہیوے وہیکلز کا دن میں آنا منع ہے، ریڈ لائن بی آر ٹی پر دن رات اور نیک نیتی سے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پتا ہے کہ ریڈ لائن کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات ہیں، یہ پروجیکٹ کراچی والوں کیلئے آئندہ سو سال کی پلاننگ ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کا گڑھی خدابخش میں خطاب انتہائی اہم ہے، شہید بھٹو نے ملک کو ایٹمی پرواگرام اور بینظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی دی، لیکن اب اصل نشانہ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی اور بہانہ عمران خان ہے۔ وزیراطلاعات سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے زندگیوں کی قربانی دی لیکن پاکستان پر آنچ نہیں آنے دی، پی ٹی آئی کی ایک ٹیم وفاقی حکومت سے مذاکرات دوسری ملک کو بدنام کر رہی ہے، جب آپ آرمی کے اثاثاجات پر حملے کروگے تو آپ مقدمات بھی ملٹری کورٹس میں چلیں گے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پارا چنار میں افسوسناک صورتحال کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی حکومت ہے، آرمی پبلک اسکول میں دہشتگردی اور بنوں جیل ٹوٹتے وقت بھی صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی، پارا چنار میں ظلم پر بانی پی ٹی آئی نے کیوں کوئی بیان نہیں دیا ہے؟خیبر پختونخواھ میں کوئی ایک منصوبا بتائیں جس میں لوگوں کو رلیف ملا ہو۔شرجیل انعام میمن نے یہ بھی کہا کہ کیفور کا منصوبہ کئی سال سیچل رہاہے، نگران حکومت سے پہلے ہم نیکابینہ میں اس پرفیصلہ لیا، بدقسمتی سینااہل افسران نیکیبنٹ منٹس کی غلط تشریح کی، غلط تشریح کی وجہ سیمنصوبہ 9 ماہ تاخیر کا شکارہوا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد پہلی کابینہ میٹنگ میں کہاگیامنصوبہ ری ٹینڈرکریں، کہاگیایہ پراجیکٹ بن ہی نہیں سکتا، ہم نے کہامنصوبہ بنے گا اور دوبارہ شروع کیاگیا، آڈٹ، احتساب کیلیے ہرکمیشن کے سامنے آنے کو تیار ہیں۔محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے منصوبے میں کوئی تاخیر نہیں، پیسوں کاکوئی مسئلہ نہیں، یوٹیلیزمنتقلی میں وقت لگے گا، یوٹیلیز منتقلی کیلئے سندھ حکومت اربوں روپے دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی کی مجال نہیں پاکستان کی طرف میلی آنکھ سیدیکھے، میلی آنکھ رکھنے والے کو پاکستان جواب دے سکتا ہے، بانی پی ٹی آئی بہانہ، اصل نشانہ ایٹمی پروگرام ہے، بانی پی ٹی آئی استعمال ہورہاہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان کی سلامتی کو بھی استعمال کررہاہے، پاکستان پرپریشر ڈالنے کیلئے لابنگ فرم ہائرکی گئیں، لابنگ فرم کے ذریعے پاکستان کوبدنام کیاجارہاہے، بانی پی ٹی آئی کی پوری کوشش ہے اسے ریلیف ملے۔وزیراطلاعات سندھ نے کہا کہ یہ چاہتے تھے ملک بینک کرپٹ ہو، جبکہ معیشت بہترہورہی ہے، پاراچنارواقعات کی ذمہ دارکے پی حکومت ہے، ان کی کوشش ہے پاکستان کی سالمیت کونقصان پہنچایاجائے، ریلیف کے چکرمیں پہلے آئی ایم ایف کیساتھ کھلواڑکیاگیا۔شرجیل میمن نے کہا کہ آئی ایم ایف کوپیغام دیاگیا کہ پاکستان کے قرضے بندکردیے جائیں، بانی پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف کوخط سے متعلق آڈیوزسانے آئیں، پیپلزپارٹی کی قیادت نے جانوں کے نذرانے دئیے، پیپلزپارٹی نے کبھی پاکستان کی سالمیت پرحملہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی تنصیبات پر حملہ ہوگاتومقدمہ ملٹری کورٹس میں چلے گا، بانی پی ٹی آئی کے ملٹری کورٹس کے حق میں بیانات کہاں گئے؟بانی پی ٹی آئی کس تناظرمیں وہ بیان دے رہے تھے؟ بانی پی ٹی آئی جن کیلئے کہتا تھا کیا ہم غلام ہیں آج پوری پی ٹی آئی ان کے پائوں میں پڑی ہوئی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان آزاد ملک ہے کسی بیرونی قوت کی دراندازی کے باعث حکومت کو بلیک میل ہونے نہیں دیں گے پارا چنار میں بہت ظلم ہوا ہے لیکن اسکی وجہ سے دہرنوں کے ذریعے دوسروں کو تکلیف نہ دیں، احتجاج جمہوری سیاسی اسلامی حق ہے لیکن اس سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں التجا کروں گا کہ لوگوں کو جوڑنے اور سہولیات پیدا کریں، پیپلز پارٹی کے وفاقی حکومت کے ساتھ اختلافات ہیں، کنالز پر ہمارا وفاق سے اختلاف ہے پی ایس ڈی پی میں اختلاف ہے، پیپلز پارٹی اگر اب چاہے تو حکومت کو ڈسٹرب کر سکتی ہے، لیکن پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتی۔ وزیراطلاعات سندھ ہم ملک کو سیاسی استحکام کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، نئی نسل کیلئے اچھی مثالیں قائم کرنا چاہتے ہیں، کراچی میں دھرنوں والوں سے سندھ حکومت مسلسل رابطے میں ہے، ہم نہیں چاہتے ہیں دہرنے والوں کو تکلیف ہو یا دھرنوں کی وجہ سے شہریوں کو تکلیف ہو۔شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وفاقی حکومت سے مذاکرات کو ویلکم کرتے ہیں، لیکن ایک طرف آپ مذاکرات کر رہے ہیں اور دوسری طرف پاکستان پر عالمی دبا کیلئے منافقت کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دعا ہے نئے سال میں ہم ایک مضبوط قوم بن کر سامنے آئیں، لیڈران ہوش کے ناخن لیتے ہوے بھائی چارے کا میسیج دیں، نئی سال میں ہم اس عہد کے ساتھ داخل ہوں کہ ملک میں مثبت سوچ کیسے لائیں۔



