قومی

رضوان بابر اور انکے رفقاء کار کو بہادر آباد مرکز سے باہر کردیا

متحدہ قومی موومنٹ میں واضع تقسیم۔۔۔مصطفی کمال نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، امین الحق، رضوان بابر اور انکے رفقاء کار کو بہادر آباد مرکز سے باہر کردیا۔ بڑا ہنگامہ۔ فاروق ستار صورتحال سے دل برداشتہ۔ محمد حسین، شکیل احمد، فرقان اطیب، فیصل سبزواری، شریف خان سمیت متعدد رہنما نے ایم کیو ایم چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ رات گئے عشرت العباد سے رابطے۔ انیس قائم خانی نے تمام تنظیمی معاملات سنبھال لئے۔ سابقہ ایم کیو ایم پاکستان کی لیڈر شپ کو انڈربزرویشن رکھنے کا فیصلہ۔ خالد مقبول پر لندن سے رابطوں کے الزامات

کراچی(خصوصی رپورٹ) متحدہ قومی موومنٹ میں واضع تقسیم۔۔۔مصطفی کمال نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، امین الحق، رضوان بابر اور انکے رفقاء کار کو بہادر آباد مرکز سے باہر کردیا۔ بڑا ہنگامہ۔ فاروق ستار صورتحال سے دل برداشتہ۔ محمد حسین، شکیل احمد، فرقان اطیب، فیصل سبزواری، شریف خان سمیت متعدد رہنما نے ایم کیو ایم چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ رات گئے عشرت العباد سے رابطے۔ انیس قائم خانی نے تمام تنظیمی معاملات سنبھال لئے۔ سابقہ ایم کیو ایم پاکستان کی لیڈر شپ کو انڈربزرویشن رکھنے کا فیصلہ۔ خالد مقبول پر لندن سے رابطوں کے الزامات۔ حالیہ دورے میں الطاف حسین سے ملاقات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ روز انتہائی بدتمیزی سے ان رہنماؤں کو فارغ کردیا گیا۔ پارٹی کا حصہ رہیں گے لیکن ہدایات مصطفی کمال دیں گے۔ وزارت تک محدود رکھنے کا بھی فیصلہ کرلیا گیا۔ ایم کیو ایم تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک گروپ خالد مقبول صدیقی کی جگہ عامر خان اور وسیم اختر کو واپس لانے حامی ہے۔ جبکہ مصطفی کمالPSPکے رہنماؤں کو تمام شعبوں پر حاوی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار جو بنیادی طور پر بزدل تصور کئے جاتے ہیں وہ الگ ہونے اور عشرت العباد کو جوائن کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہی حال تیسرے گروپ محمد حسین، شکیل احمد، فرقان اطیب، فیصل سبزواری، شریف خان اور دس راکین کا ہے جو عشرت العباد کے حامی ہیں۔ صورتحال نے نیا ٹرن لے لیا ہے۔ دوسری جانب اسلم آفریدی، انیس ایڈووکیٹ، مولانا تنویر الحق تھانوی، کرنل طاہر مشہدی، خواجہ سہیل منصور، مذمل قریشی، شیراز وحید، وسیم قریشی، سلیم بندھانی، شیخ اسماعیل عظیم، شمعون ابرارم، نعیم حشمت اور متعدد رہنما بھی عشرت العباد کے ساتھ جانے کے لئے پر تولنے کی اطلاعات ہیں وسیم آفتاب، ڈاکٹر صغیر احمد، سلیم تاجک، لیبر ڈویژن کے رہنما بھی عشرت العباد کے حامی ہیں۔ مصطفی کمال عشرت العباد کے لئے سافٹ کارنر رکھنے پر خالد مقبول اور سینئر رہنماؤں سے نالان ہیں۔Establishmentکو غلط پکچر دکھا کر پارٹی پر قبضہ کرکے انتہائی مضبوط ملک گیر پارٹی پاکستان میری پہچان کے خلاف صف آراء پہوا جا رہا ہے لیکن عشرت العباد ملک بھر میں تنظیم سازی کرکے تین سال بعد کھل کر سامنے آئے ہیں۔ کراچی نوجوان تحریک، ابا جی سرکارکے ہزاروں مرید،AIM، پیپلزپارٹی یوتھ ونگ، کراچی رائٹس، اینٹی کرائم، دی وائس آف اورنگی، فاروق ملک اور سینئر رہنما وں نے ایم کیو ایم کو محدود کردیا ہے اور عشرت العباد خان کی پوزیشن ملک بھر میں مستحکم ہے، ایک اطلاع کے مطابق چؤشاہد خاقان عباسی اور کئی نئی جماعتیں اس میں ضم ہونے کے لئے تیار ہیں صرف عشرت العباد کی آمد کا انتظار ہے جو تاریخی استقبال ثابت ہوسکتا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button