قومی

جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر سونے کی اسمگلنگ کی دو کوششیں ناکام

پاکستان کسٹمز کی بڑی کارروائی، سونے کی دس اینٹیں اور غیر ملکی کرنسی ضبط

پاکستان کسٹمز نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر سونے اور غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کی دو بڑی کوششیں ناکام بنا دیں۔ یہ کارروائیاں انٹرنیشنل ڈیپارچرز ٹرمینل پر مسافروں کی کلیئرنس کے دوران کی گئیں، جہاں جدید اسکیننگ نظام اور کسٹمز حکام کی مستعدی کے باعث اسمگلنگ کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکی۔

ایف بی آر کے مطابق دونوں علیحدہ علیحدہ مقدمات میں مجموعی طور پر دس ایس ٹی بی سونے کی اینٹیں، جن کا مجموعی وزن 100 تولہ بنتا ہے، اور 11 ہزار 900 امریکی ڈالر کی غیر ملکی کرنسی ضبط کی گئی۔ ضبط شدہ سونے اور کرنسی کی مجموعی مالیت تقریباً پانچ کروڑ چھے لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ دونوں مقدمات میں کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

پہلے واقعے میں دبئی جانے والے ایک مسافر کو فلائٹ نمبر ایف زیڈ تین سو تیس کے ذریعے روانگی کے دوران اس وقت روکا گیا جب بیگیج اسکیننگ کے دوران قیمتی دھات کی ممکنہ موجودگی کا شبہ ظاہر ہوا۔ مشترکہ جانچ کے عمل میں مسافر کے سامان سے تین ایس ٹی بی سونے کی اینٹیں برآمد ہوئیں، جن میں سے ہر ایک کا وزن دس تولہ تھا۔ یوں مجموعی طور پر تیس تولہ سونا برآمد کیا گیا۔ حیران کن طور پر یہ سونے کی اینٹیں بڑی مہارت کے ساتھ موبائل فونز کے اندر چھپا کر رکھی گئی تھیں تاکہ اسکیننگ سے بچا جا سکے۔

اسی مقدمے کے دوران مسافر کے بٹوے کی تلاشی لی گئی تو اس میں چار ہزار نو سو امریکی ڈالر کی غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہوئی، جسے کرنسی ڈیکلریشن کاؤنٹر پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ کسٹمز حکام کے مطابق اس کیس میں برآمد شدہ سونے اور کرنسی کی مجموعی مالیت تقریباً ایک کروڑ چھپن لاکھ بیاسی ہزار روپے بنتی ہے۔

دوسرا واقعہ اس سے قبل پیش آیا، جس میں استنبول جانے والے ایک مسافر کو فلائٹ نمبر ٹی کے سات سو نو کے ذریعے روانگی کے دوران روکا گیا۔ سامان کی اسکیننگ کے دوران سونے کی اینٹیں چھپائے جانے کا شبہ پیدا ہوا، جس پر مسافر کو جوائنٹ ایگزامینیشن کاؤنٹر منتقل کیا گیا۔ تفصیلی جانچ کے دوران مسافر کے سامان سے سات ایس ٹی بی سونے کی اینٹیں برآمد ہوئیں، جن میں سے ہر ایک کا وزن دس تولہ تھا۔ اس طرح مجموعی طور پر ستر تولہ سونا ضبط کیا گیا۔

بعد ازاں مسافر کی جسمانی تلاشی بھی لی گئی، جس کے دوران سات ہزار امریکی ڈالر کی غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی جو مکمل طور پر ان ڈیکلیرڈ تھی۔ اس مقدمے میں ضبط شدہ سونے اور کرنسی کی مجموعی مالیت تقریباً تین کروڑ پچاس لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔

کسٹمز حکام کے مطابق دونوں مقدمات میں برآمد شدہ سونا اور غیر ملکی کرنسی تحویل میں لے لی گئی ہے جبکہ ملزمان کے خلاف کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اسمگلنگ کے نیٹ ورک اور ممکنہ سہولت کاروں کا سراغ لگانے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ حکام کے مطابق ایئرپورٹس پر جدید ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ عملہ اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے تاکہ قیمتی دھاتوں اور غیر قانونی کرنسی کی اسمگلنگ کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

یہ کامیاب کارروائیاں اس امر کی عکاس ہیں کہ پاکستان کسٹمز اور ایف بی آر اسمگلنگ کے خلاف نہ صرف متحرک ہیں بلکہ قومی معیشت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button