قومی

جامعہ زرعی سندھ کی سینیٹ کے اجلاس میں بجٹ کی منظوری، جامعات حکومت کی اولین ترجیح قرار

جامعات سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں، زرعی تحقیق کو مزید مضبوط بنانا ہوگا”، محمد اسماعیل راہو

جامعہ زرعی سندھ ٹنڈوجام کی 30ویں سینیٹ کا اہم اجلاس صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز حکومت سندھ اور پرو چانسلر محمد اسماعیل راہو کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال سمیت سینیٹ کے اراکین نے شرکت کی اور جامعہ کے تعلیمی، انتظامی اور مالی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں تین نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا جس میں 29ویں سینیٹ اجلاس کی کارروائی کی توثیق، ایکشن ٹیکن رپورٹ کا جائزہ اور مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی منظوری شامل تھی۔ ڈائریکٹر مالیات سید فدا حسین شاہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2023-24 کے دوران کل وصولیاں 3,536.697 ملین روپے جبکہ مجموعی اخراجات 3,432.350 ملین روپے رہے۔ مالی سال 2024-25 کے نظرثانی شدہ بجٹ کے مطابق کل دستیاب وسائل 4,030.783 ملین روپے جبکہ اخراجات 4,047.958 ملین روپے مقرر کیے گئے۔ اسی طرح مالی سال 2025-26 کے تخمینہ شدہ بجٹ میں کل دستیاب وسائل 4,390.553 ملین روپے جبکہ متوقع اخراجات 4,821.288 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت جامعات کی ترقی اور استحکام کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2020-21 کے بعد یونیورسٹی گرانٹس میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے جو 6 ارب روپے سے بڑھ کر 43 ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ کی کارکردگی قابلِ تحسین ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث زراعت، مویشی بانی، ماہی گیری، جنگلی حیات اور جنگلات کے شعبے کو سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے لیے مضبوط اور مؤثر زرعی تحقیق ناگزیر ہے۔

انہوں نے صوبے میں تصدیق شدہ بیج کی کمی کو ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے مٹی اور پانی کی جانچ، معیاری کھاد اور زرعی ادویات کے درست استعمال، اور پائیدار زرعی طریقہ کار پر تحقیق کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت کسانوں کی معاونت کے لیے واٹر کورسز کی پختگی، جدید زرعی مشینری کی فراہمی، مختلف شعبوں میں سبسڈی اسکیموں اور کسان کارڈ جیسے اقدامات کر رہی ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدن بہتر بنائی جا سکے۔

وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ اندرونی وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے تدریسی شعبوں اور تجربہ گاہوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نئے تعلیمی پروگرامز متعارف کرائے جا رہے ہیں اور طلبہ کو وظائف، عملی تربیت اور فیلڈ ورک کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ پیشہ ورانہ میدان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ تاہم انہوں نے اس امر کا بھی اعتراف کیا کہ جامعہ کو مالی مسائل کا سامنا ہے جس کے حل کے لیے مزید تعاون درکار ہے۔

اجلاس میں مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں کے نمائندگان، ڈینز، چیئرمینز اور انتظامی افسران نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر جامعہ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی جس میں تعلیمی کامیابیوں، تحقیقی پیش رفت اور ادارہ جاتی ترقی کے اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button