آج کے کالمز

تبصرہ:

عاصم نواز خان طاہرخیلی

کتاب ” تذکرہ مصنفینِ ھزارہ” از مولانا مفتی عنایت الرحمان ھزاروی صاحب

بزم مصنفین ہزارہ کے روح رواں محترم جناب ملک محمد عظیم ناشاد اعوان صاحب کی وساطت سے مولانا مفتی عنایت الرحمان ہزاروی کی کتاب  ” تذکرہء مصنفین ہزارہ ” میرے ہاتھوں میں ہے۔ اس کتاب کا نام اس کے اندر موجود معلومات کا مکمل عکاس  ہے۔ یہ کتاب درحقیقت ہزارہ کے لکھاریوں کا تحقیقی احوال ہے جنہیں ہزارہ کی دنیائے ادب کا سرمایہءِ افتخار کہا جائے تو کم نہ ہوگا۔ چھ ابواب پر مشتمل معلومات کے اس خزانے میں مصنف نے اپنے تئیں مکمل محنت اور انصاف سے ہزارہ کے شعر و نثر سے متعلق لکھاریوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی ہیں۔ سات اضلاع پر مشتمل ہزارہ ڈویژن کے ہر علاقے سے لکھاریوں کی معلومات اکٹھی کرنا اک انتہائی کٹھن کام تھا جو مفتی صاحب نے کر دکھایا۔ گو میرے خیال میں تو یہ کتاب ہزارہ میں گلستانِ ادب کے مہکتے گلابوں کی مکمل معلومات پر مشتمل ہے مگر اتنے بڑے ڈویژن کے ہر علاقے تک رسائی اک انتہائی دشوار عمل ہے، اس لیے اگر کوئی اک آدھ رائیٹر تذکرہ سے محروم رہ بھی گیا ہو تو اسے نظر انداز کر کے مولانا مفتی عنایت الرحمان ہزاروی صاحب کی اس کاوش کو دل و جان سے سراہنا بنتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کتاب کو
ان شاءاللہ ہزارہ کی تاریخ میں وہ مقام ملے گا کہ جو پھلوں میں آم، پھولوں میں گلاب اور موسموں میں بہار کا ہے۔

اس کتاب کو پڑھ کر اپنے ہزارہ کی زرخیر ادبی مٹی سے آگاہی ملتی ہے۔ مفتی صاحب نے کتاب کی ابواب میں تقسیم اور حروف تہجی کے اعتبار سے لکھاریوں کا تعارف و ادبی خدمات بیان کر کے اس کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ چونکہ درج معلومات متعلقہ لکھاریوں نے خود فراہم کی ہیں اس لیے کمی رہ جانے کی گنجائش ہی نہیں رہی۔ کتاب کے پہلے حصے میں خوبصورت انتساب اور آٹھ مختلف شخصیات کی طرف سے جامع تبصرہ و تقاریظ قاری کو آغاز میں ہی جکڑ لیتے ہیں۔ باب اول ہزارہ میں ادب سے متعلق علماء کے بلا تفریق ذکر سے مزین ہے جس سے علمائے کرام کے قلم سے مضبوط رشتے کا پتہ چلتا ہے۔ باقی ابواب میں سے باب سوم میں ہزارہ کی خواتین لکھاریوں کا تعارف اور ان کی ادبی خدمات، باب چہارم میں غیرمطبوعہ کتب اور ان کے مصنفین کا ذکر اور باب پنجم میں مرحوم مصنفین کا احوال اس کتاب کی خوبصورتی، انفرادیت اور مؤلف کی ادب شناسی و تحقیقی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
المختصر کتاب ھذا اک قیمتی خزانہ ہے جس کے تمام ابواب ترتیب سے لے کر مواد تک اپنے اندر قیمتی لعل و گوہر سموئے ہوئے ہے۔ اس کتاب کی روشنی میں قاری ہزارہ کے زندہ و مرحوم مرد و خواتین لکھاریوں کے احوال و ادبی خدمات سے آشنا ہو سکتا ہے۔ میں محترم مولانا مفتی عنایت الرحمان ھزاروی صاحب کو اس عظیم کاوش پر قلبی مبارک باد دیتے ہوئے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی کی ذات ان کو مستقبل میں بھی اسی طرح صحت کاملہ کے ساتھ اپنے ھزارہ کی ادبی خدمات کا مواقع فراہم کرتی رہے۔
آمین ثم آمین۔

کتاب کے آخر میں مفتی صاحب کے قلم سے تحریر شدہ میرا تعارف اسے میرے لیے مزید قیمتی کرتا ہے اور یقین ہے کہ اگلے ایڈیشن میں یہ کتاب میں بھی شائع ہوگا۔۔
ان شاءاللہ۔

عاصم نواز خان طاہرخیلی
معلم،مصنف، کالم نگار،
صدر آئ ڈبلیو ایف پاکستان
تحصیل غازی (ہری پور) و
ممبر بزم مصنفین ھزارہ
(12 نومبر 2023)

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button