
ایبٹ آباد کے سرکل بکوٹ شریف اور ملحقہ گلیات کے قیمتی جنگلات ایک بار پھر ٹمبر مافیا کے نشانے پر آ گئے ہیں، جہاں بااثر عناصر اور ان کے سہولت کار مبینہ طور پر دن رات لکڑی کی غیر قانونی کٹائی اور سمگلنگ میں مصروف ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق بکوٹ شریف، نتھیاگلی سے ملحقہ فارسٹ ایریاز میں جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے جبکہ لکڑی شہ زور گاڑیوں، ڈمپروں اور بڑے ٹینکروں کے ذریعے راولپنڈی اور دیگر شہروں کو منتقل کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وہ گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں جن کے پیچھے پانی یا تیل کی ٹینکیاں لگی ہوتی ہیں، تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔ ان گاڑیوں کے ذریعے رات کے اوقات میں لکڑی کو مین شاہراہوں تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے آگے مختلف علاقوں میں سپلائی کی جاتی ہے۔
گلیات سرکل بکوٹ شریف کے جنگلات، خصوصاً نتھیاگلی سے متصل بکوٹ فارسٹ کی رابطہ سڑکیں اس غیر قانونی سرگرمی کا مرکز بن چکی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق اگر ان تمام رابطہ سڑکوں پر مؤثر چیکنگ اور مستقل ناکہ بندی کی جائے تو لکڑی کی سمگلنگ میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے، تاہم تاحال کوئی مؤثر حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔
اسی طرح یونین کونسل نمل، پٹن کلاں، پلک اور بیروٹ کے جنگلات سے بھی شہ زور گاڑیوں اور ڈمپریوں کے ذریعے لکڑی نکالے جانے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ قیمتی درختوں کی بے دریغ کٹائی سے نہ صرف قدرتی حسن تباہ ہو رہا ہے بلکہ ماحولیاتی توازن بھی بگڑنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ جنگلات، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے فوری طور پر بکوٹ شریف اور گردونواح کے جنگلات کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں یہ علاقے مکمل طور پر درختوں سے محروم ہو سکتے ہیں، جس کے سنگین ماحولیاتی اور معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق جنگلات کی کٹائی سے لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور موسم کی شدت جیسے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے ٹمبر مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔



