ایس سی او سمٹ اجلاس نئے عالمی نظام اور علاقائی تعاون کا آغاز ہے: میاں زاہد حسین

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئل فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، چیئرمین نیشنل بزنس گروپ پاکستان، ایف پی سی سی آئی کی پالیسی مشاورتی بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا اجلاس علاقائی اور نئے عالمی نظام کا آغاز ہے۔ ترقیاتی بینک اور غیر ڈالر تجارت مغربی تسلط سے آزادی کی شروعات ہیں۔ پاکستان اور چین کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں اور سی پیک کے اگلے مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ ایس سی او کے حالیہ اجلاس کے نتائج دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ پچیسواں اجلاس عالمی و علاقائی منظرنامے میں ایک اہم موڑ ہے جو طاقت کے نئے مراکز کو اجاگر کرتا ہے۔ معاشی طور پر ایس سی او ترقیاتی بینک کا قیام اور غیر ڈالر تجارت کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ رکن ممالک مغربی اثر و رسوخ سے آزاد نیا مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دے رہے ہیں جو عالمی بینک اور آئی ایم ایف کا متبادل بن سکتا ہے۔
سیاسی طور پر تیانجن اعلامیہ نے خود مختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں کو اجاگر کیا ہے جو عالمی تعلقات کا نیا ماڈل پیش کرتا ہے جس میں تھانے داری کی پالیسی کو مسترد کیا گیا ہے۔ اجلاس نے پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید تقویت بخشی ہے جبکہ اس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی شرکت کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ وزیراعظم شہباز شریف، چین کے صدر اور وزیراعظم کے مابین تجارت، صنعتی تعاون اور سی پیک کے اگلے مرحلے پر خصوصی بات چیت ہوئی اور دونوں ممالک کے درمیان ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کے کاروباری معاہدے طے پائے۔
اجلاس نے دفاع اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بھی ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا جو پاکستان کی قومی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ بھارت اور چین کے تعلقات میں بھی اس اجلاس نے نئے مکالمے اور سرحدی مسائل پر تعاون کے امکانات پیدا کیے ہیں، جس کے اثرات خطے کی سیاست اور معیشت پر مثبت مرتب ہوں گے۔ اس سے بھارت کے پاکستان کے ساتھ رویے میں تبدیلی کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کو چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا ہوگا۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت نے اسے خطے کا مرکزی کردار بنا دیا ہے جس سے اسے بڑے معاشی فوائد حاصل ہونے کے امکانات ہیں۔ امریکہ کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات بھی قومی مفاد میں ہیں۔ پاکستان کو سفارت کاری کے ذریعے یہ واضح کرنا ہوگا کہ چین کے ساتھ تعلقات یا امریکہ کے ساتھ تعلقات کسی تیسرے ملک کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ دونوں بڑی طاقتوں کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ اہداف پر مبنی روابط پاکستان کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایس سی او صرف سلامتی تک محدود تنظیم نہیں رہی بلکہ یہ اب اقتصادی ترقی، عدم مداخلت اور ایک مستحکم نئے عالمی نظام کے قیام کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرچکی ہے جس سے پاکستان کو بے شمار مواقع میسر آئیں گے۔



