قومی

اپوزیشن اتحاد کا مطالبات پورے ہونے تک پارلیمنٹ ہاؤس کا دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ

حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید، شفاف تحقیقات اور انتخابی اصلاحات کا مطالبہ

اپوزیشن اتحاد نے اپنے مطالبات کی منظوری تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوامی مسائل کے حل تک احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ موجودہ حالات میں خاموش رہنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح، بے روزگاری اور حالیہ قانون سازی کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو نظرانداز کر کے اہم فیصلے کیے جا رہے ہیں، جس سے جمہوری روایات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام اہم قومی معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے اور شفاف تحقیقات کے ذریعے عوام کو سچ سے آگاہ کیا جائے۔

اپوزیشن اتحاد نے انتخابی اصلاحات، معاشی پالیسیوں پر نظرِثانی اور مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے پرامن احتجاج ان کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ احتجاج کے دوران نظم و ضبط کا خیال رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے گریز کیا جائے۔

دھرنے کے شرکاء کی بڑی تعداد پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف موجود ہے جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستے فراہم کیے گئے ہیں جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔ احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ریاستی اداروں سے ٹکراؤ نہیں بلکہ عوامی آواز کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن اتحاد کا یہ فیصلہ ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر مذاکرات کا عمل شروع نہ ہوا تو سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے اور کسی بھی جمہوری معاشرے میں مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے جاتے۔

اپوزیشن اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں ملک گیر احتجاجی جلسوں کا شیڈول بھی جاری کیا جائے گا تاکہ عوام کو اپنے مطالبات سے آگاہ کیا جا سکے۔ رہنماؤں نے کہا کہ وہ پرامن اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں گے اور مطالبات کی منظوری تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button