* زرعی ٹیکنالوجی میں جدت لانے کے لئے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کا کلیدی کردار ہے۔ نگراںوزیر اعلیٰ بلوچستان
* بلوچستان کے تمام علاقوں میں اپنی زرعی تحقیق سے انقلاب لانے کے لیئے پرعزم ہیں۔ڈاکٹر غلام محمد علی، چیئرمین، پی اے آر سی
اسلام آباد: (پی اے آر سی، شعبہ تعلقات عامہ) نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی سے اتوار کو اسلام آباد میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی نے ملاقات کی اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں ادارے کے تیکنیکی منصوبوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں خوراک و غذائی ضروریات کے ضمن میں اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دستیاب وسائل میں کونسل کی مجموعی کارکردگی اطمینان بخش ہے اور ملکی زرعی معیشت میں ادارے کا کردار قابل قدر ہے۔اور اس امر پر بھی زور دیا کہ ملک کی زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے تمام صوبوں میں جدید تکنیک اپنا کر قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں زراعت سے وابستہ افراد کو جدید زرعی تیکنیک سے روشناس کرانے کے لئے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کو اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہئے ، اس سلسلے میں ادارے کو صوبائی حکومت کی مکمل معاونت و بھرپور تعاون حاصل رہے گا۔
چیئرمین،پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان، میر علی مردان خان ڈومکی، کی تجاویز کا سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل بلوچستان کے زیادہ سے زیادہ علاقوں تک اپنی زرعی تحقیق کے نتائج پہنچانے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئےکارلائے گی ۔ ڈاکٹر علی نے مزید بتایا کہ کونسل نے بلوچستان میں زیتون ، زعفران، پستہ اور دیگر منافع بخش پھلوں کے تعارف اور ترویج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ کچھ سالوں میںپاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے بلوچستان اٹھارہ اضلاع میں تقریباً دس لاکھ زیتون کے پودے کاشت کیے ہیں اور تقریباً دو ہزار ایکڑ پر ڈریپ سسٹم کے ذریعے آبپاشی کا انتظام کیا گیا ہے۔ دالوں کی کاشت پر بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر غلام محمد علی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو آگاہ کیا کہ ہماری تمام تر توجہ بلوچستان میں دالوں کی پیداوار کو فروغ دینے اور دالوں میں خود کفالت حاصل کرنے پر مرکوز ہے ، اس سلسلے میں بلوچستان کے بائیس اضلاع میں کسانوں کو دالوں کا معیاری بیج فراہم کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ تل اور اسپغول کی پیداوار کے لیے بھی متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان ، میر علی مردان خان ڈومکی نے صوبے میں زراعت کو جدید طریقوں پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہر ممکن وسائل فراہم کرنے اور رکاوٹ دور کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی –


