قومی

اب فیصلے ایوان میں نہیں، میدان میں ہوں گے؛ مولانا فضل الرحمان کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

حکومت پر شدید تنقید، عوامی طاقت سے سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم، کارکنوں کو تیاری کی ہدایت

مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب فیصلے ایوانوں کے اندر نہیں بلکہ میدان میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل، سیاسی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف بھرپور عوامی احتجاج کیا جائے گا، جس کے لیے پارٹی کارکنوں کو تیاری کی ہدایت دے دی گئی ہے۔

اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کو سیاسی، معاشی اور آئینی بحرانوں کا سامنا ہے، جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی صورتحال سے پریشان ہیں۔ ان کے مطابق حکمران عوامی اعتماد کھو چکے ہیں اور اب فیصلے عوامی طاقت سے کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں عوام کی رائے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اور اگر عوام کے مسائل حل نہ کیے جائیں تو احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ان کی جماعت عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ملک بھر میں جلسے، احتجاجی ریلیاں اور عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے، جن میں مختلف سیاسی اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا جائے گا۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ احتجاجی تحریک کو منظم اور پرامن انداز میں آگے بڑھائیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں صرف پارلیمانی کارروائی کافی نہیں رہی، اس لیے اب عوامی رابطہ مہم اور میدانِ عمل میں جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ملک کے مختلف طبقات میں بے چینی پائی جاتی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مہنگائی، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، اور معاشی دباؤ نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق عوام اب عملی تبدیلی چاہتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جانب سے احتجاجی تحریک کا اعلان ملکی سیاست میں نئی سرگرمیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں اس تحریک میں شامل ہوئیں تو سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ احتجاج جمہوری حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا جائے گا اور کارکن قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نظم و ضبط کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ملک میں آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے ابھی تک اس اعلان پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں احتجاجی سیاست میں شدت آ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں احتجاجی تحریکیں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں، اور مختلف جماعتیں عوامی دباؤ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرتی ہیں۔ تاہم سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق مذاکرات اور آئینی راستے اختیار کریں۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب کے اختتام پر کارکنوں سے اتحاد اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت عوام کے حقوق کے لیے ہر فورم پر جدوجہد جاری رکھے گی اور ملک گیر احتجاج کے شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button