عالمی

سعودی عرب : ‘اگر ضروری ہوا تو فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں’

ریاض اجلاس میں شہزادہ فیصل بن فرحان کا ایران کو خبردار کرنے والا بیان، "اعتماد مکمل طور پر ختم"

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب نے ایران کو ایک زبردست انتباہ جاری کیا ہے، جہاں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا ہے کہ مملکت ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہزادہ فیصل نے کہا کہ ایران کی مسلسل جارحیت اور میزائل حملوں کی وجہ سے سعودی عرب کا صبر ختم ہو رہا ہے اور تہران کو اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خود اجلاس کے دوران بھی ریاض کو متعدد بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا، جنہیں سعودی فضائیہ نے کامیابی سے ناکام بنا دیا۔ شہزادہ فیصل نے اس واقعے کو ایران کے سفارت کاری سے مایوسی کی واضح علامت قرار دیا اور کہا کہ تہران اپنے پڑوسیوں سے بات چیت کے بجائے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ دباؤ ناکام ہو گا اور الٹا اثر کرے گا”۔

سعودی وزیر خارجہ کا مؤقف: فوجی کارروائی کا حق اور اعتماد کا خاتمہ:
شہزادہ فیصل بن فرحان نے پریس کانفرنس میں انتہائی سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ایران کی جارحیت کے خلاف ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "مملکت دباؤ کے سامنے ہرگز سرنڈر نہیں کرے گی، اور جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، ہم نے ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملے کوئی حادثاتی نہیں بلکہ پہلے سے منصوبہ بند ہیں۔ انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ شہری تنصیبات اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے، جسے انہوں نے "بھتہ خوری کی کھلی کوشش” قرار دیا۔ شہزادہ فیصل نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بیجنگ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان جو معمولی اعتماد قائم ہوا تھا، وہ ایران کے حالیہ اقدامات کی وجہ سے مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ ان کے الفاظ میں، "جو تھوڑا بہت اعتماد تھا وہ بھی اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے”۔

سعودی وزیر خارجہ نے ایران کے اس موقف کو بھی مسترد کر دیا کہ وہ خلیجی ممالک میں امریکی موجودگی کے باعث ان پر حملے کر رہا ہے۔ انہوں نے اس جواز کو "غیر تسلی بخش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے حملوں کا نشانہ بننے والی تنصیبات کا امریکی مفادات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے اپنی جارحانہ پالیسی جاری رکھی تو اس کی تنہائی میں مزید اضافہ ہو گا۔

علاقائی ممالک کا مشترکہ مؤقف اور اعلامیہ:
ریاض میں منعقدہ اس ہنگامی اجلاس میں پاکستان سمیت بارہ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران رہائشی علاقوں، شہری تنصیبات، تیل کی تنصیبات، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، ہوائی اڈوں اور سفارتی مشنوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جسے کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وزرائے خارجہ نے ایران پر زور دیا کہ وہ "فوری اور غیر مشروط” طور پر اپنے حملے بند کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پابندی کرے۔ اعلامیے میں ممالک کے اپنے دفاع کے حق کو بھی اجاگر کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ علاقائی ممالک ایران کی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی اقدامات کر سکتے ہیں۔

شہزادہ فیصل نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ایران کا رویہ نہ صرف خلیجی ممالک کے لیے خطرہ ہے بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایران نے سعودی عرب، بحرین، کویت، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات، اردن، آذربائیجان، ترکی اور لبنان سمیت متعدد مسلم ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے خلاف بین الاقوامی ردعمل اور امریکی انتباہ:
سعودی عرب کی اس سخت گیر پالیسی کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھی ایران کو خبردار کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر واضح کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ قطر پر حملہ کیا تو امریکہ ایران کے گیس فیلڈز کو تباہ کر دے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ "اگر ایران میں موجود امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو ہم پوری طاقت سے جواب دیں گے”۔

اس اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے بھی شرکت کی، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کا حصہ ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم رہنا نہ صرف علاقائی ممالک کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ضروری ہے۔

نتیجہ:
سعودی عرب کی جانب سے ایران کو دیا گیا یہ انتباہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان کا یہ موقف کہ سعودی عرب فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے، مملکت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ بارہ اسلامی ممالک کا مشترکہ اعلامیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کی جارحانہ پالیسی کے خلاف علاقائی اتفاق رائے پیدا ہو رہا ہے۔

تاہم، سفارتی ذرائع کے مطابق اب بھی مذاکرات کی گنجائش موجود ہے، بشرطیکہ ایران اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرے۔ سعودی قیادت کی خواہش ہے کہ خطے میں استحکام آئے اور عوام ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں، لیکن اس کے لیے ایران کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور جارحیت کا راستہ ترک کرنا ہو گا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button