عالمی

غیر ملکی سیاحوں پر حملہ، زیادتی اور قتل: بھارتی عدالت نے تین ملزمان کو سزائے موت سنا دی

سنابپور جھیل واقعے میں ملوث نوجوانوں کو جرم ثابت ہونے پر سخت ترین سزا، ایک سیاح ڈوب کر جاں بحق جبکہ دو معجزانہ طور پر بچ گئے

بھارت کی ایک عدالت نے غیر ملکی سیاحوں پر حملے، زیادتی اور قتل کے سنگین مقدمے میں ملوث تین ملزمان کو سزائے موت سنا دی۔ عدالتی فیصلے کے بعد یہ مقدمہ ایک بار پھر ملک میں سیاحوں کے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے 27 سالہ شرن نپا، 22 سالہ ملیش اور 21 سالہ سائی کو تمام الزامات ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی۔ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت واردات کی اور سیاحوں کو نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 6 مارچ 2025 کی رات پیش آیا، جب پانچ سیاح معروف سیاحتی مقام سنابپور جھیل پر رات کے وقت تارے دیکھنے کے لیے جمع تھے۔ اسی دوران تینوں ملزمان موٹر سائیکل پر وہاں پہنچے۔ ابتدا میں انہوں نے سیاحوں سے پٹرول پمپ کا راستہ پوچھنے کا بہانہ بنایا تاکہ ان کے قریب جا سکیں۔

استغاثہ کے مطابق ملزمان نے اچانک سیاحوں سے رقم کا مطالبہ کیا۔ جب سیاحوں نے منہ مانگی رقم دینے سے انکار کیا تو ملزمان مشتعل ہو گئے اور انہوں نے تشدد شروع کر دیا۔ مرد سیاحوں کو زدوکوب کرنے کے بعد انہیں جھیل میں دھکیل دیا گیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق تین مرد سیاح پانی میں جا گرے، جن میں سے دو نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیر کر جھیل کے دوسرے کنارے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ تاہم تیسرا سیاح گہرے پانی میں ڈوب گیا اور موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔ واقعے کے دوران خواتین سیاحوں کے ساتھ بھی مبینہ طور پر زیادتی کی گئی، جسے عدالت نے اپنے فیصلے میں نہایت سنگین جرم قرار دیا۔

واقعے کے بعد مقامی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ تفتیش کے دوران شواہد، عینی شاہدین کے بیانات اور فرانزک رپورٹ عدالت میں پیش کی گئیں، جن کی بنیاد پر جرم ثابت ہوا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف انسانیت کے خلاف جرم ہے بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بنا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایسے جرائم معاشرے میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں اور سیاحت جیسے اہم شعبے کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ جج نے اسے “نایاب ترین” نوعیت کا جرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی۔

یاد رہے کہ سنابپور جھیل سیاحوں کے لیے ایک پُرسکون اور قدرتی حسن سے بھرپور مقام سمجھا جاتا ہے جہاں مقامی اور غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے تھے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ملزمان کو اعلیٰ عدالت میں اپیل کا حق حاصل ہے، تاہم ابتدائی فیصلے نے عوامی سطح پر اطمینان کا اظہار پیدا کیا ہے اور اسے انصاف کی فراہمی کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button