عوام کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
تحریر :محمد جاوید ریجنل انفار میشن آفس ایبٹ آباد
ہزارہ ڈویژن کی انتظامیہ اور پولیس نے اس ضمن میں محرم الحرام کے حوالے سے تمام فیصلوں اور انتظامات کو نہ صرف حتمی شکل دے دی ہے بلکہ عشرہ محرم شروع ہوتے ہی ان فیصلوں پر عملدرآمد بھی شروع کردیا گیا ہے۔
محرم کے دوران امن وامان اور بین المسالک ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ سازی کے مرحلہ پر انتظامیہ کو تمام مسالک کے علماء، تاجروں، سرکاری محکموں اور میڈیا وغیرہ کی بھرپور مشاورت اور تعاون حاصل رہا ہے۔ ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنروں اور ضلعی پولیس افسروں نے امن کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کیے جس کے نتیجے میں محرم کے جلوسوں اور مجالس کو پرامن طور پر منعقد کرانے کے اقدامات کے حوالے سے شرکاء میں مکمل اتفاق رائے سامنے آیا اور اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ محرم کے دوران امن و امان کے حوالے سے صوبائی حکومت اور تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں سے وابستہ عوام کی توقعات پر پورا اُترتے ہوئے پرامن محرم الحرام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ ہزارہ ڈویژن صوبے کا ایک پرامن خطہ ہے لیکن
خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے پیش نظر صوبائی حکومت حکومت نے محرم الحرام کے دوران حساس شہروں کی سکیورٹی پربھرپور توجہ مرکوز کرتے غیر معمولی اقداما ت اٹھانے کے سخت فیصلے کئے جن کا اطلاق پرامن اضلاع پر بھی ہو گا۔ ان فیصلوں میں صوبہ بھر میں مجالس اور جلوسوں کی سیکورٹی اور شر پسند اور دہشت گرد عناصر پر نظر رکھنے کے لیے پولیس، ایف سی اور فوج کی تعیناتی بھی شامل ہے جبکہ علماء کرام اور شہری بین المسالک ہم آئینگی کو یقینی بنانے اور کسی قسم کی اشتعال انگیزی یا مذہبی منافرت کا راستہ روکنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے جس کا عزم علماء سمیت سول سوسائٹی نے امن کمیٹیوں کے اجلاس میں ظاہر کیا ہے۔ ہزارہ کے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران نے امام بارگاہوں، مجالس خانوں اور عزاداری جلوسوں کے روٹس کے دورے کر کے سیکورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔ ضلع ہری پور میں محرم الحرام کے 35 جلوس اور مجالس منعقد ہونگی۔ یکم محرم سے 10 محرم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 1800 سے زائد اہلکار سیکورٹی پر تعینات ہوں گے۔ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ محرم الحرام کے جلوسوں کے مقرر کردہ شیڈول اور روٹس پر سختی سے عمل کیا جائے تا کہ شہریوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ ڈپٹی کمشنرز اور پولیس اس امر کو بھی یقینی بنانے کی کوششیں کر رہی ہے کہ ممبر اور مسجد کے تقدس کا خیال رکھا جائے،فرقہ وارانہ تقریر سے اجتناب کیا جائے، تاجر اور شہری محرم الحرام میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران نے عام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے آس پاس کی سرگرمیوں اور شر پسند عناصر پر کڑی نظر رکھیں۔ محرم الحرام میں امن و امان کے حوالے سے صوبائی حکومت کے اقدامات سے امید کی جا رہی ہے کہ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی محرم الحرام کے پروگرام احسن طریقے سے بخیر و خوبی انجام پائیں گے اور تمام مسلمان اس ماہِ مقدس کی فضیلت کے تقاضے پورے کر پائیں گے۔


