فلسطین میں ظلم انتہا کو پہنچ گیا لیکن یو این خاموش ہے۔ تمام اسلامی ممالک صرف مذمت ہی کر رہیں ہیں۔ تمام امت مسلمہ کو چاہیے کے انٹرنیشنل فورمز پر اس سنگین مسئلے کو اٹھائیں اور اس مشکل گھڑی میں نہتے فلسطینیوں کا ساتھ دیں۔
فلسطین میں آئے روز بمباری ہو رہی ہے اور پانی کی طرح خون بہایا جا رہا ہے۔ ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق اب تک مرنے والوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جس میں تقریباً 4 ہزار سے زاہد معصوم بچے ہیں۔ ان مرنے والوں میں بیشتر بچے بولنے سے بھی قاصر ہیں۔ ان معصوم بچوں کا قصور یہ ہے کے انہوں نے فلسطین کی پاک سرزمین پر آنکھ کھولی ہے۔
دنیا کی تاریخ میں اتنا ظلم عظیم کربلا کے بعد فلسطین میں ہو رہا ہے۔ کربلا میں بھی 6 ماہ کے بچے کو صرف اس لئے شہید کیا گیا کے انہوں نے ظلم کے آگے سر جھکانے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن اتنی صدیہ گزرنے کے باوجود بھی آج ان شہدا کو یاد کیا جاتا ہے۔
فلسطینیوں کی ناحق قربانیاں رائگاں نہیں جانے دیں گے۔ تمام انسانی حقوق کے علمبردارو کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور اس ظلم و بربریت کو فلفور روکنا چاہیے۔ اس مسئلے کا حل صرف مفاہمت سے نکلے گا اور اس مسئلے میں تمام انسانی حقوق کی آرگنائزیشنز کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا خواں انکا تعلق کسی بھی ملک یا کسی بھی مذہب سے ہو۔
اگر ابھی نہ اس مسئلے کا حل تلاش کیا تو پھر آنے والے وقت میں ہر طرف انسانی خون سے نہری بہیں گی اور اس دنیا کا امن خراب ہو گا۔
اس دنیا کا قیام امن کے لئے ہوّا ہے اور اس امن کو برقرار رکھنے کے لئے تمام لوگوں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا پڑے گا۔ بیشک اُنکا تعلق کسی بھی مذہب، قوم یا ملک سے ہو۔ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا پڑے گا ورنہ ہر طرف قتل و غارت ہو گی اور نقصان صرف انسانیت کا ہو گا۔
فلسطین پر بمباری دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کے نہتے فلسطینیوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے انسانیت دم توڑ گئی ہے۔ مغرب ممالک کے سب لوگ اسرائیل کی اس جھاریت میں کھل کر انکا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب سارے اسلامی ممالک صرف تماشا دیکھ رہے ہیں۔ اس ظلم کو فلفور روکنا چاہیے اور ہر ایک انسان کو جان اور مال کی امان ہونی چاہیے۔
انسان ہو گا تو اس دنیا کا نظام چل سکے گا اگر ایسے ہی انسانی جانوں کا زیاہ ہوتا رہا تو پھر اس دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ انسانیت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اس کی سانسیں کھیچنے سے بہتر ہے ہمیں وینٹیلیٹر بن کر انسانیت کی سانسیں بحال کرنی چاہئے اور فلسطین کو امن کا گہوارہ بنانا چاہئے۔



