ہزارہ

احرام سے ہتھکڑی تک

انجینئر افتخار چودھری

دیکھ لیا نا آپ نے ایک صحافی گھر سے احرام باندھ کے نکلا تھا کہ میں جاؤں گا اور حج کروں گا سنت ابراہیمی پر عمل کرنے کے لیے آ رہا تھا۔ یہ بندہ جس کا نام عمران ریاض ہے، اس کا سفر دیکھا آپ نے احرام سے زنجیر تک؟ ظالموں کچھ خدا کا خوف کرو! مانتے ہو خدا کو؟ اتنا ظلم تو روہنگیا کے مسلمانوں پر نہیں ہوا، اتنا ظلم تو کشمیر میں نہیں ہوا، اتنا ظلم تو اسرائیل میں بھی نہیں ہوا جتنا ظلم آپ لوگوں نے پاکستان کے لوگوں کے ساتھ کر دیا۔ اور کہتے ہو کہ بھئی پاکستان میں آ کے انویسٹمنٹ کرو؟ کوئی پاگل ہی ہوگا جو پاکستان میں جا کے انویسٹمنٹ کرے۔ میرے گھر کے نوکر بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں، خدا کی قسم، ان لوگوں کو اوپر ہم ہنستے تھے جب ہمارا روپیہ پونے تین روپے کا تھا اور ان کا کھٹکا۔ اب دیکھ لیں ہم کہاں کھڑے ہیں اور یہ کہاں کھڑے ہیں۔

اور اب کہتے ہیں کہ ہم اسلامی ملک کے شہری ہیں۔ نعرے ہم سے جتنا مرضی لگوا لو "پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ”، لگا کے نعرے لگاتے ہیں اور حرکتیں اپنی یہ ہیں کہ اس کو حج پہ نہیں جانے دینا؟ یہ ہو سکتا ہے وہاں سے باہر چلا جائے؟ او بھائی جانے دو! کوئی ایک پاکستان سے جو زندہ بھاگ رہا ہے تو اس کو بھاگ جانے دو۔ ظالموں، آج ایک بڑے اہم شخص سے میری بات ہو رہی تھی تو وہ مجھے کہہ رہا تھا کہ ہم احتجاج کرنا چاہتے ہیں، ہم فلاں کرنا چاہتے ہیں تو یہ تو آپ کا قانون نے اجازت دی ہوئی ہے۔ چھپ چھپ کے لوگ اور خاص طور پر تحریک انصاف کے لوگ، ابو جہل کے زمانے میں اتنے نہیں لوگ چھپے ہوں گے جتنے آج کے زمانے میں ہمارے لوگ چھپ رہے ہیں۔ گھروں سے چار چار پانچ ماہ، مجھ جیسے مریض شخص جس کا دل کا آپریشن ہو چکا ہے، کبھی لاہور، کبھی ڈی ایچ اے، کبھی جناح ٹاؤن، کبھی گوجرانوالہ، چھپ چھپ کے ہم نے گزارا کیا۔ کس قدر تکلیف دہ تھے ہمارے لیے وہ دن۔ تنگ آ کے کسی طرح الحمدللہ میرا نام اسٹاپ لسٹ میں نہیں تھا تو سعودی عرب نے عمرے کا نہیں، وزٹ ویزا ہمیں دیا ہے۔ ایک سال کا وزٹ ویزا۔ کیا بات ہے!

جب ایئرپورٹ پہ اترے تو اس طریقے سے استقبال ہوا جیسے ہم دونوں بھائی بچھڑے ہوئے مل رہے ہیں۔ یہ وہ سعودی نہیں ہیں پرانے کہ جو مکہ کے راستے میں بدو بیٹھے ہوئے ہوتے تھے، لوٹ لیتے تھے۔ اب وہ دور نہیں رہا۔

پچھلے دنوں جدہ میں پاکستان سے ایک وفد آیا ہوا تھا اور وہ لوگوں کو یہ کہنے آیا تھا کہ پاکستان میں انویسٹ کریں۔ مجھے ایک نجی محفل میں ایک پیارے دوست نے بتایا کہ ان کے درمیان ایک ایسا شخص بھی تھا جو یہاں لوگوں کو کہنے آیا تھا کہ سعودی عرب کے بجائے پاکستان میں انویسٹ کریں۔ تو اس شخص نے آہستہ سے علیحدگی میں میرے دوست کو کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ یہاں میں کاروبار کر سکوں؟

دوستو، کاروبار کوئی کیا کرے گا جب اس کی عزت محفوظ نہیں رہے گی، اس کا پیسہ محفوظ نہیں رہے گا؟ وہ پاکستان میں کیوں کاروبار کرے گا؟ 90 کی دہائی میں غلام حیدر بھائی نے ہمیں، پاکستان انجینئر کمیونٹی کو یہ کہا کہ آپ آئیں، میں آپ کو سات پرسنٹ پہ لون دوں گا۔ آپ وہاں کے حالات کو چیک کریں۔ تو اور کسی نے کچھ نہیں کیا لیکن میں نے گوجرانوالہ سمال انڈسٹریز میں ایک کیو پلس لگائی۔ اور میرے بھائی امتیاز گجر نے مجھے بتایا کہ یہاں پہ کوئی بھی نہیں پیسے دیتا جب تک جوتے نہیں سارے پڑتے ہیں۔ تو میں نے بھائی کو ایک تصویر یہاں سے بھیجی، اس وقت زمانہ واٹس ایپ کا نہیں تھا، اور وہیں صاحب کو خط لکھا۔ جو ساتھ میں جو لمبا سا بندہ ہے، جو آپ کے ساتھ کھڑا ہے، اس کو آپ نے وعدہ کیا تھا تو وہیں صاحب نے گوجرانوالہ سمال انڈسٹریز کے ذمہ داروں کو لکھا کہ ان کو لون دیا جائے۔ وہ لون مل گیا، ہم نے فیکٹری لگا لی۔ اب یقین کیجئے کہ میرے بھائی نے تنگ آ کے اس فیکٹری کو بند کر دیا کہ جو چیز ہم مارکیٹ میں 2400 کی بیچتے تھے، وہ الریڈی مارکیٹ میں دو ہزار کی تھی۔ تو میں نے پوچھا کہ یہ کیوں اس طرح ہو رہا ہے؟ تو بھائی نے کہا کہ میں گیس چوروں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ دوسرے لوگ جو ہیں، وہ گیس چوری کرتے ہیں اور مارکیٹ میں اس کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ یہ میں الفاظ میں کہہ رہا ہوں اور ہم نے بالاخر وہ فیکٹری سوونیکس والوں کو بھیج دی۔ یہ کام ہوتا ہے پاکستان میں۔

اب یہ بندہ آ کے وہاں کون سی انڈسٹری لگائے گا؟ بجلی اور گیس چوروں نے اس طرح پاکستان کو لوٹا ہے کہ ایک ایماندار آدمی کر ہی نہیں سکتا۔ یہ چھوٹے چھوٹے لوگ بجلی کمپنیوں کو معمولی سی رشوت دیتے ہیں، پانچ چھ سو روپے مہینے کی رشوت دیتے ہیں تو کمرشل میٹروں کی بجائے گھریلو میٹر پہ اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ جس ملک کی سرشت میں ہی بے ایمانی ہو، وہاں کیسے لوگ انویسٹ کریں گے؟

گوادر کے بارے میں ایک بڑا آدمی کہہ رہا تھا کہ ایک وقت تھا کہ پوری دنیا سے لوگ گوادر کی طرف آ رہے تھے۔ وہ مشرف دور تھا اور اب گوادر ختم ہو کے رہ گیا۔ امریکہ چین کو کس طرح فیسلیٹیٹ کرے گا؟ جتنی مرضی سڑکیں بنا لیں، جانا یہ سب کچھ کر لے گا لیکن امریکہ نے کام یہ کرنا ہے کہ جو لوگ اس کی نہیں مانتے، اس کو ڈیالہ جیل میں بند کرا دیتا ہے۔ اور اس کی جگہ میں نے بات کی تھی، پریزیڈنٹ ٹرمپ کے ایک ایڈوائزر ہوتے تھے، پاکستانی انیایت ساجد تارڑ صاحب سے، تو میں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا کوئی اچھے دن بھی آئیں گے؟ تو وہ کہنے لگے کہ پاکستان کے مقتدر قوتیں امریکہ کے ساتھ بہت سیٹ ہیں۔ تو جب وہ مقتدر قوتیں سیٹ ہوں گی، تو گوادر کیسے چلے گا؟ گوادر برباد ہو گیا۔

او بھائی صاحب بتا رہے تھے، کہتے تھے کہ میں گوادر میں فیکٹری لگاؤں گا جہاں پہ کوئی ٹیکس نہیں ہے اور کوریا سے آ کے لگاؤں گا کیونکہ ٹیکس نہیں ہے۔ اور اس سوال کے جواب میں کہ گوادر میں تو کوئی چارہ نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ چارے والے سندھ سے لے لیں گے۔ سب کچھ ہو جائے گا اور دودھ کی پروڈکٹ سے پوری دنیا میں بناؤں گا، چیز بناؤں گا، بٹر بناؤں گا، اور بے شمار چیزیں وہاں پہ بنیں گی، گوادر میں۔ اور میں چار ہزار دائیں لا رہا ہوں لیکن جب یہاں کے لوگ امریکن پالیسی پہ چلتے ہوئے ان کے سامنے جو پاکستانی ٹگے آئے تو نہ کوریا کے بندے نے یہاں پہ انویسٹمنٹ کی، نہ اس کا خواب پورا ہوا۔ آپ یقین کریں کہ سیاسی پارٹیوں کو استعمال کیا جاتا ہے کہ ان ملکوں کا بڑا غرق کیا جائے۔

آپ کو پتہ ہے کراچی میں ایک لڑکی ٹریفک حادثے میں مر گئی تھی تو پورا کراچی سڑکوں پہ آ گیا تھا اور اصل مسئلہ یہ تھا کہ جرمنی کی کمپنی بی ایم ڈبلیو یہاں پہ انویسٹ کر رہی تھی اور اس کے ساتھ بے شمار اور کمپنیاں آ رہی تھیں۔ تو یہی بی ایم ڈبلیو کا پلانٹ جا کے تھائی لینڈ میں لگا۔ پاکستان کا بیڑا غرق تو اسی دن ہو گیا تھا جب پاکستان میں آئی ایم ایف سے قرض لیا تھا۔ ایک ساہوکار سے قرض لے کر جس طرح لوگوں کی زندگیاں تباہ ہوتی ہیں، وہ آپ کو پتہ ہی ہے۔

تو نہ انجن کی خوبی، نہ ڈرائیور کی مہارت، چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے۔ اب پتہ نہیں کہ پاکستان کا کیا ہوگا؟

اب یقین کریں کہ سعودی عرب جیسا ملک اس خطے میں سرمایہ داروں کے لیے سونے کی چڑیا ہے۔ پچھلے دن یہاں پہ وہ ایک دن جیو کے ساتھ والا بندہ آیا ہوا تھا تو یہاں کے مقامی انویسٹر جو گجرات کے ہیں ان سے بات کر رہا تھا۔ وہ ڈپلومہ انجینئر چوہدری شفقت محمود سے یہ پوچھ رہا تھا کہ آپ نے کیسے زندگی شروع کی؟ وہ کہنے لگے معمولی ملازمت سے اور بعد میں پیسہ آیا تو کمپنی بنا لی۔ اور وہ کہہ رہے تھے کہ کمپنی میں میں نے 2022 میں اربوں روپے کمائے ہیں۔ سویڈش انسٹیٹیوٹ گجرات کا پڑھا ہوا وہ شخص بتا رہا تھا، دھول خورد کا رہنے والا۔ اس نے سعودی عرب کی پاک دھرتی کی مٹی سے، دھول سے کروڑوں روپے نہیں، اربوں روپے
کمائے ہیں۔ موسم کسی کو کچھ نہیں کہتے جب آپ محنت مزدوری کرتے ہیں اور اس کے بعد آپ کے ہاتھوں میں ایک اچھی خاصی تنخواہ ملتی ہے تو آپ اس کو کیا کریں گے؟ اور موسم آج کل بھی جدہ کا تو 38-42 ہوتا ہے، یا کہہ لیں کہ پنجاب کے برابر ہی ہوتا ہے، 45 ہو جاتا ہے لیکن شام کو اچھا موسم ہو جاتا ہے۔ ہے بجلی موجود، ہے گھروں میں، دفتروں میں۔ ہر وقت جناب علی ٹھنڈے ٹھار ہو کر کام کرتے ہیں اور جو محنت مزدوری کرتا بھی ہے، اس کا حق بنتا ہے کہ اس کو دھوپ میں بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ لیکن اللہ کا فضل ہے کہ ہمارے نوجوان محنت کرتے ہیں اور اپنے ماں باپ کو حج کراتے ہیں، بہنوں کی شادیاں کراتے ہیں، اچھے اچھے مکان بناتے ہیں اور کسی کی جرات نہیں کہ آپ کو ہاتھ لگا لے۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی آپ کو ہاتھ لگا دے۔

پچھلے دنوں ایک سعودی نے پاکستانی کو مکا مارا تھا اور اس پاکستانی نے اس موقع کے بدلے میں اس سے 10 ہزار ریال لے کے اس کو معاف کیا تھا۔ میں بار بار اسی فیس بک کے کہتا ہوں کہ 1988 میں الجمع کمپنی میں میں کام کرتا تھا تو وہاں سعی چاک کا جھگڑا ہو گیا اور جھگڑے میں پتہ چلا کہ ہم نے پرنس تو صحیح جانے اس کو لمحہ پا لیا، بعد میں پولیس آئی اس کو لے گئی۔ اب یقین کریں کہ پرنس کی غلطی قرار دی گئی، صحیح شاہ کو کچھ پیسے بھی دیے گئے اور حفاظت اپنی کمپنی میں پہنچ گیا تھا۔ دوسرے دن پتہ چلا کہ اس کی تو وی آئی پی ٹریٹمنٹ ہوئی ہے کیونکہ غلطی پرنس کی تھی۔ یہ بہت پرانی بات ہے۔ فواد بن عبدالعزیز گورنر تھے مکہ کے اور میں نے شیخ عبدالرحمن الجمعہ کو فون کیا تھا کہ کسی پرنس نے یہاں پہ فائرنگ کر دی ہے تو اس نے کہا تھا اس پہ کچھ نہ کہیں اور پانچ منٹ کے اندر ریڈ پولیس آ گئی جو پرنسوں کو ہینڈل کرتی ہے، تو اس کو انصاف ملا۔

آئیں نا پاکستان جا کے لگائیں، میری زمین ہے سندھ میں۔ خدا کی قسم، سندھی وہاں پہ قبضہ کر کے بیٹھا ہوا ہے۔ تھوڑا سا پیسہ اس نے دیا ہے بیانہ اور بعد میں جناب علی کھا گیا۔ تو میں نے کہا کدھر بھائی؟ کہنے لگا میری ماں نے کہا کہ آپ کی زمین بیچ دو۔ یعنی ماں تمہاری اور زمین ایک پنجابی کی۔ اور وہاں کے سردار ہیں جو انہوں نے کہا کہ جی ہم آپ کا فیصلہ کرا دیں گے۔ وہ ملتے ہی نہیں سرکار۔ وہ آج کل پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں، علی خان مہر جو ہیں اور وہ پنجابیوں کی زمین کھا گیا، اور سابق فوجی کی زمین کھا گیا۔ اور اس بندے کی زمین کھا گیا جو پنوعاقل چھاؤنی بنواتا تھا۔ پہلے وہ قتل ہو گیا، شہید ہو گیا اور پھر اس کے بھائی کی زمین، اس کے بچوں کی زمین کھا گئے۔

ایک سابق فوجی کی زمین کھا گیا، لعنت ہے اس قسم کی حرکتوں کے اوپر۔ پاکستان کے جتنے لوگ بھی ہیں، میرے چاہنے والے جتنے بھی لوگ ہیں، خدا کی قسم، یہاں پہ آئیں اپنی کمپنی فارم کریں، جو مرضی کام کریں اور نوٹوں کو ایسے سمیٹیں جیسے لٹ پڑی ہوتی ہے۔ اگر شفقت محمود اربوں روپے کما سکتا ہے تو آپ تو لاکھوں کما ہی لیں گے نا۔ اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ تمہارا عرب کہاں سے آیا؟ کہاں سے آیا؟ اس نے ایک کام کیا ہے، یہاں پہ ایک سسٹم ہے کہ آپ سعودیوں کو 30 پرسنٹ یا 40 پرسنٹ ملازم رکھیں اور ڈیڈ شاٹ یا پھر بچیاں کام کرتی ہیں، ساڑھے چار ہزار سے کم طرح نہیں ہے سعودیوں کی، اور اتنے مزے سے رہ رہے ہیں۔

ہاں، ایک بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے خلاف بھونکنے کی اجازت نہیں ہے، شکایت آپ کر سکتے ہیں، بلدیہ کی شکایت کر سکتے ہیں، پولیس کی شکایت کر سکتے ہیں۔ ایک چیز گورنر کے سامنے رکھ سکتے ہیں، ایک موقع ہی نہیں بنتا یہاں پر۔ لوگ اللہ کے فضل و کرم سے اربوں روپے کا کاروبار کر رہے ہیں اور گوجرانوالہ کے لوگو! ادھر آ کے پیسہ خرچ کرو۔

پچھلے دنوں کو رانا صاحب آئے ہوئے تھے، یہاں پہ لگانا چاہتے ہیں پاٹری وغیرہ، اور اس طرح جو برتنوں کا کاروبار کرنا چاہتے ہیں، بے شمار لوگ کام کر رہے ہیں۔ سلور کے برتن بنانے والے بڑے بڑے پریس لگائے ہوئے ہیں، ماشاءاللہ، لوگوں نے بہترین ہے۔

باقی، بجلی آپ نے خود پیدا کرنی ہے، خود جنریٹر لگانے ہیں، خود اس طرح کی کرنی ہے۔ وہ تو وہ آپ کو پیسہ لگائیں گے تو بہت زبردست گورنمنٹ آپ کو قرض بھی دے گی۔

میں سعودی عرب میں بیٹھ کے سعودی عرب کی بات کر رہا ہوں۔ مجھے جب یہ نظر آتا ہے کہ جو وہاں پہ پیسہ کمانے والا ہے، اس بیچارے کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں۔ یہاں آؤ، کاروبار کرو پاکستان کے لوگوں! وہ کیا کہتے ہیں، "ونگاں دا بوپار، نالے دیوی دے درشن”؟ اتنے دیوی کے درشن ہیں کہ مکہ یہاں پہ 75 کلومیٹر دور ہے اور مدینہ 400 کلومیٹر۔ اور سڑکیں ایسی ہیں، سڑکیں تو ماشاءاللہ، اب ہماری بعض اوقات ان سعودی عرب کی سڑکوں سے بہتر ہیں۔ موٹرویز وغیرہ، چار گھنٹے میں تین گھنٹے میں مدینہ منورہ، ایک گھنٹے میں مکہ۔

اتنا فائدہ کہاں ملے گا آپ کو؟ گوجرانوالہ کے لوگ تو خاص طور پہ، میں کہوں گا کہ جس طرح مسجدیں بات کی ہوئی ہیں، آپ لوگوں نے ادھر آئے ہیں، سٹڈی کریں اور پاکستان کو بچا لیں۔ پاکستان بچے گا تو ان لوگوں کی ترقی کی وجہ سے بچے گا۔ آج پاکستان کے گاؤں، دیہات جو منظر پیدا کر رہے ہیں، جو ہمارے پٹرول پمپس ہیں، جو ہماری یہ کوٹھیاں گاؤں میں ہوتی ہیں، فلانا اور انہی ملکوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

بات لمبی ہو گئی ہے، لیکن میں بات انویسٹمنٹ کی کر رہا ہوں۔ کم اینڈ انویسٹ ان سعودی عربیہ! پاکستان کا خیال کریں، پاکستان کو بچائیں۔ جو گھر سے احرام باندھ کے نکلے، اس کو مکہ پہنچنے دیں۔ آج کتنا افسوسناک بات ہے کہ میں نے اپنے کالم کا عنوان "احرام سے ہتھکڑی تک” رکھا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button